فاروق عبداللہ بولے- مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نکالے جانے تک پلوامہ جیسے حملے ہوتے رہیں گے

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نکالے جانے تک وادی میں پلوامہ جیسے حملے ہوتے رہیں گے۔

Feb 18, 2019 07:21 AM IST | Updated on: Feb 18, 2019 08:26 AM IST
فاروق عبداللہ بولے- مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نکالے جانے تک پلوامہ جیسے حملے ہوتے رہیں گے

نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ ۔ فائل فوٹو

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نکالے جانے تک وادی میں پلوامہ جیسے حملے ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری کسی کا محل نہیں چاہتے ہیں بلکہ عزت و وقار کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔

فاروق عبداللہ نے یہ باتیں اتوار کو یہاں بٹھنڈی میں واقع مکہ مسجد کے صحن میں لوگوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ یہ اجتماع ان کشمیریوں پر مشتمل تھا جو جموں شہر کے مختلف علاقوں میں حملوں کے ڈر سے مکہ مسجد میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

Loading...

فاروق عبداللہ نے حالیہ ہلاکت خیز پلوامہ دھماکے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا 'یہ حملے ہوتے رہیں گے۔ یہ حملے کم نہیں ہوں گے۔ جو ابھی حملہ ہوا یہ کم نہیں ہوں گے۔ جب تک یہ مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور حل نہیں کریں گے، یہ حملے کم نہیں ہوں گے۔ ہم لوگوں کو مت ماریئے۔ ہمارا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ہم عزت سے رہنا چاہتے ہیں۔ عزت سے پڑھنا چاہتے ہیں اور ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم عزت سے دو وقت کی روٹی کھانا چاہتے ہیں۔ ہم کسی کا محل نہیں چاہتے ہیں۔ جو طاقتیں ہم لوگوں کو توڑنا چاہتی ہیں، ہمیں ان سے یہی کہنا ہے کہ تمہاری جو مرضی وہ کرو مگر ہم اپنا راستہ نہیں چھوڑیں گے'۔

نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ میں نے گذشتہ روز نئی دہلی میں منعقدہ کُل جماعتی میٹنگ میں تمام جماعتوں کے سیاسی لیڈران سے کہا کہ آپ لوگ ہماری خواہشات کو نہیں سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا 'میں نے کُل جماعتی میٹنگ میں ان سے کہا کہ ہمارا قصور نہیں ہے۔ قصور آپ لوگوں کا ہے۔ جو ہمارے دلوں کی خواہشات کو دیکھتے نہیں ہیں۔ جو ہم کو سمجھتے نہیں ہیں۔ پھر آپ ہمارے بچے کو بھی عتاب کا نشانہ بناتے ہیں۔ آپ ہم پر ہر طرف سے مصیبت ڈال رہے ہیں۔ ہم اس (حملے) کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ہمارا ان تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمارے بچوں جو ہندوستان کے مختلف حصوں میں پڑھ رہے ہیں مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آج ہم لوگوں کو صبر کرنا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی طاقت نہیں ہے۔ ہمیں اللہ سے مانگنا ہے کہ یا اللہ ہم پر نازل مصیبت کم کر، ہم پر رحم کر۔ ہمیں اطمینان سے رہنا ہے۔ کوئی نعرے بازی نہیں کرنی ہے۔ ہم لوگ اس مصیبت سے نکل جائیں گے'۔

Loading...