موت سے واقف ہو گیا وہ لیکن روح اردو سے عشق فرماتی ہے ، دنیا اسے ' اکبر الہ آبادی ' پکارتی ہے

کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے ، کوئی پا رہا ہے کوئی کھو رہا ہے۔۔ کوئی تاک میں ہے کسی کو ہے غفلت ، کوئی جاگتا ہے کوئی سو رہا ہے۔۔ کہیں نا امیدی نے بجلی گرائی ، کوئی بیج امید کے بو رہا ہے۔۔ اسی سوچ میں میں تو رہتا ہوں 'اکبر " یہ کیا ہو رہا ہے یہ کیوں ہو رہا ہے۔۔۔

Nov 16, 2018 09:20 AM IST | Updated on: Nov 16, 2018 09:20 AM IST
موت سے واقف ہو گیا وہ لیکن روح اردو سے عشق فرماتی ہے ، دنیا اسے ' اکبر الہ آبادی ' پکارتی ہے

اکبر الہ آبادی

اگر اس کویتا نے آپ کی دھڑکنوں کو اپنے سکون کا سہارا دیا ہو تا جان لیجئے انہیں اردو سے عشق فرمانے والے عظیم شاعر اکبر الہ آبادی نے لکھا ہے آج یعنی جمعہ کو اکبر کا یوم پیدائش ہے ۔ اکبر الہ آبادی ان کا اصلی نام سید اکبر حسین تھا اور ان کی پیدائش 1846 میں الہ آباد کے پاس بارہ میں ہوئی تھی۔

اکبر کی شروعاتی پڑھائی لکھائی گھر پر ہی ہوئی تھی لیکن جب وہ 15 سال کے ہوئے تب 2۔3 سال بڑی لڑکی سے شاد ی کر لی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ ایک شادی پر نہیں رکا۔ کچھ ہی وقر بعد انہوں نے دوسری شادی کرکے سب کو چونکا دیا تھا۔

Loading...

اکبر کے اپنی دو بیویوں سے 202 بیٹے تھے۔ وہ بھرے پورے کنبہ میں یقین رکھتے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ اکبر کو پڑھائی لکھائی سے کوئی رابطہ نہیں تھا بلکہ انہوں نے تو اپنی وکالت کی پڑھائی کی تھی اور الہ آباد کے سیشن کورٹ میں جج کے طور پر اپنی ذإہ داری کو بخوبی نبھایا تھا۔

برطانوی حکومت نے انہیں خان بہادر کا لقب دیا تھا۔ اکبر گاندھی کی قیاست میں چھڑی تحریک آزادیکے بھی گواہ رہے تھے۔ انہوں نے گاندھی کے اوپر کئی کویتائٰں لکھیں۔ جسے گاندھی نامہ نام سے شائع کیا گیا تھا۔

وکالت کے باوجود دنیا سے روبرو ہونے کیلئے رہتے تھے بیقرار

اکبر کے دل میں شاعری بسی تھی جو ایک اپنی مرضی کے کوی کے ذریعے دنیا سے روبرو ہونے کیلئے ہمیشہ بیقرار رہتی تھی۔ان کے گھریلو حالاتوں نے ان کا کویتا سے اور بھی  زیادہ قریبی رشتہ بنا دیا تھا کیونکہ بہت کم عمر میں ہی ان کے بیٹے اور پوتے کی موت ہو گئی تھی۔

یہ اکبر کا سب سے تنہا ئی بھرا دور تھا جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ کے درمیان بہت مذہبی ہو گئے تھے۔ ان سب سے الگ جب ان کی زندگی میں غموں کی کوئی خاص آہٹ نہیں تھی تب وہ ایک ملنسار شخص تھے۔

Loading...