اتراکھنڈ میں مسلم ملازمین کو جمعہ کی نماز کے لئے ملے ڈیڑھ گھنٹہ کے وقفہ کی بی جے پی نے کی مخالفت

بی جے پی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے راوت حکومت کی مسلم اپیزمنٹ کی پالیسی قرار دیا ہے۔

Dec 19, 2016 05:29 PM IST | Updated on: Dec 19, 2016 05:29 PM IST
اتراکھنڈ میں مسلم ملازمین کو جمعہ کی نماز کے لئے ملے ڈیڑھ گھنٹہ کے وقفہ کی بی جے پی نے کی مخالفت

تصویر: اے این آئی

دہرادون۔ اتراکھنڈ حکومت نے اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے مسلم سرکاری ملازمین کو بڑا تحفہ دیا ہے۔ ہریش راوت حکومت نے جمعہ کی نماز کے لئے مسلم ملازمین کو 90 منٹ کا وقفہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ راوت کابینہ نے اس تجویز کو پاس کر دیا ہے۔ راوت حکومت کے اس فیصلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی سوال اٹھا رہی ہے۔

بی جے پی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے راوت حکومت کی مسلم اپیزمنٹ کی پالیسی قرار دیا ہے۔ بی جے پی ترجمان نلن کوہلی نے کہا کہ بہت دکھ کی بات ہے کہ مذہب کی بنیاد پر فیصلہ لیا جائے۔ یہ بہت غلط ہے۔ ہمارا ملک سیکولر ہے۔ اس قسم کی چیزیں مذہب پر مبنی ممالک میں ہو سکتی ہیں۔ یہ ووٹ کی سیاست کے لئے لیا گیا فیصلہ ہے۔ وہیں، انل بلونی نے کہا کہ ہریش جی نے جو کیا ہے وہ کانگریس کی روایت رہی ہے، وہی کر رہے ہیں۔ کہیں نہ کہیں الیکشن کو متاثر کرنے کی منشا ہے۔

Loading...

حالانکہ کانگریس راوت حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ کانگریس لیڈر کشور اپادھیائے نے کہا کہ یہ اچھا فیصلہ ہے، اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ جنہیں لگتا ہے کہ یہ انتخابی اسٹنٹ ہے وہ احتجاج درج کروائیں۔ ہمیں ہر مذہب کا احترام کرنا چاہئے۔ کانگریس اگر اچھا کرے تو انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے کہا کہ جمعہ کے دن زیادہ تر مسلم نماز پڑھتے ہیں، اگر وقت دے دیا جائے تو ٹھیک ہے۔ شاید کچھ دشواریاں آ رہی ہوں، اس لئے کیا ہو۔ سہولت دے رہے ہیں تو ٹھیک ہے۔

Loading...