خواجہ حسن نظامی کے صحافتی کارناموں پر ڈاکٹر آصف علی کی تنقیدی کاوش کا رسم اجرا

خواجہ حسن نظامی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور اردو صحافت کے شعبہ میں ان کی خدمات نہ قابل فراموش ہیں۔ تاہم حسن نظامی کی ان خدمات کا نہ تو انہیں کبھی کوئی صلہ حاصل ملا اور نہ ہی اردو تحقیق نے ان کے ساتھ انصاف کیا۔

Dec 07, 2016 08:09 PM IST | Updated on: Dec 07, 2016 08:09 PM IST
خواجہ حسن نظامی کے صحافتی کارناموں پر ڈاکٹر آصف علی کی تنقیدی کاوش کا رسم اجرا

میرٹھ :خواجہ حسن نظامی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور اردو صحافت کے شعبہ میں ان کی خدمات نہ قابل فراموش ہیں۔ تاہم حسن نظامی کی ان خدمات کا نہ تو انہیں کبھی کوئی صلہ حاصل ملا اور نہ ہی اردو تحقیق نے ان کے ساتھ انصاف کیا۔ حسن نظامی کے انہی صحافتی کارناموں کو اجاگر کرنے کے مقصد سے ڈاکٹر آصف علی نے اپنی تحقیق کو کتاب کی شکل میں پیش کیا ہے، جس کا رسم اجرا میرٹھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں عمل میں آیا۔

اردو صحافت کے حوالے سے خواجہ حسن نظامی کی سیاسی سماجی اور قومی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ، لیکن اردو تحقیق میں جو خاطرخواہ توجہ حسن نظامی کو حاصل ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی ۔ ایک صحافی کی حیثیت سے ان کے کارناموں کو مرکز میں رکھ کر ڈاکٹر آصف علی نے اپنی تحقیق ' خواجہ حسن نظامی بحیثیت صحافی ' کے ذریعہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔

دانشوروں کا ماننا ہے کہ حسن نظامی کی صحافتی خدمات کے پہلو سے ڈاکٹر آصف علی کی یہ تنقیدی کاوش اردو تحقیق میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے ۔

Loading...

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com