گجرات: ’’جن لوگوں نے مودی جی کو جیت دلائی، انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے‘‘: ماویاتی

مایاوتی نے کہا ہے کہ گجرات حکومت حملہ کرنے والوں پر سخت سے سخت کارروائی کرے۔

Oct 09, 2018 11:19 AM IST | Updated on: Oct 09, 2018 11:39 AM IST
گجرات: ’’جن لوگوں نے مودی جی کو جیت دلائی، انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے‘‘: ماویاتی

بی ایس پی سربراہ مایاوتی: فائل فوٹو

گجرات میں بہار، اترپردیش اورمدھیہ پردیش کے لوگوں پرہورہے حملے اور ریاست سے ان کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے اوراس معاملے پرزبردست سیاست شروع ہوگئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اب تک 20 ہزار سے زیادہ لوگ ریاست چھوڑ کرواپس جاچکے ہیں۔

اب اس معاملے پربہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی نے بی جے پی کی حکومت پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے گجرات حکومت سے مطالبہ کیا  ہے کہ ریاستی حکومت حملہ کرنے والوں پر سخت سے سخت کارروائی کرے۔

مایاوتی نے کہا ہے کہ یہ مایوس کن ہے کہ جن لوگوں نے وزیراعظم مودی کوووٹ دیا اوروارانسی سے جیت دلائی، انہیں ہی  گجرات میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ریاست کی بی جے پی حکومت کو سخت سے سخت اقدامات کرنے چاہئے اورحملے کے لئے ذمہ دارلوگوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔

راہل گاندھی نے بھی گجرات حکومت کی تنقید کی

ریاست میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہونے پرتنقید کرتے ہوئے کانگریس نے بی جے پی حکومت کے ناکام ہونے کی بات کہی تھی۔ اس پروزیراعلیٰ وجے روپانی نے پلٹ وارکرتے ہوئے کانگریس کو ان واقعات کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا۔

کانگریس صدر راہل گاندھی نے پیرکوٹوئٹ کرتے ہوئے ان حادثات کو غلط بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’غریبی سے بڑی کوئی دہشت نہیں ہے۔ گجرات میں ہونے والے تشدد کی جڑ وہاں کے بند پڑے کارخانے اوربے روزگاری ہے۔  نظام اورمعیشت دونوں کی صورتحال خستہ حال ہے۔ دوسری ریاستوں کے لوگوں کو اس کا نشانہ بنانا پوری طرح غلط ہے۔ میں پوری طرح سے اس کے خلاف کھڑا رہوں گا‘‘۔

کیا ہے پورا معاملہ؟ 

گجرات کے سابرکانٹھا ضلع کے ہمت نگرمیں 28 ستمبر کو 14 ماہ کی بچی کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے عصمت دری کے ملزم بہار کے رہنے والے رویندرساہو نامی شخص کوگرفتارکرلیا تھا۔ اس حادثہ کے بعد مقامی لوگوں میں شمالی ہندوستانیوں کے تئیں ناراضگی بھڑک اٹھی تھی۔ انہوں نے خاص طورپربہاراوراترپردیش سے وہاں کام کرنے گئے لوگوں کو اپنا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ مقامی لوگ انہیں دھمکی دینے لگے، جس کے بعد بہار، یوپی اورمدھیہ پردیش کے لوگ وہاں سے بھاگنے کو مجبورہوگئے اورمیڈیا کی خبروں کے مطابق اب تک 20 ہزار سے زیادہ لوگ گجرات سے منتقل ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:     گجرات سے 20 ہزار لوگوں کی منتقلی کا دعویٰ، وزیراعلیٰ نے امن وامان بنائے رکھنے کی اپیل کی

یہ بھی پڑھیں:     گجرات میں اترپردیش اور بہار کے لوگوں پر حملے: کانگریس کا وزیر اعظم پر طنز ، یاد رکھیں ! وارانسی بھی جانا ہے

یہ بھی پڑھیں:     گجرات: 14 ماہ کی بچی سےعصمت دری کے بعد کئی اضلاع میں بہار- یوپی کےلوگوں پرحملہ

Loading...