دو دہائیوں سے ماڈرن ٹیچرس کے لئے ضابطہ ملازمت نہیں ہو سکا طے

دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے متواتر مطالبہ و احتجاج کے باوجود ماڈرن ٹیچرس کے لئے ضابطہ ملازمت طے نہیں ہو سکا ہے ۔

Sep 24, 2016 06:18 PM IST | Updated on: Sep 24, 2016 06:18 PM IST
دو دہائیوں سے ماڈرن ٹیچرس کے لئے ضابطہ ملازمت نہیں ہو سکا طے

مئوناتھ بھنجن۔  مدارس جدید کاری اسکیم کے تحت مقرر کئے گئے ماڈرن ٹیچرس اب تک ضابطہ ملازمت کے بغیر ہی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے متواتر مطالبہ و احتجاج کے باوجود ماڈرن ٹیچرس کے لئے ضابطہ ملازمت طے نہیں ہو سکا ہے ۔ مرکزی حکومت نے سال 1993 میں مدرسہ جدیدکاری اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ سال 1995 میں یہ اسکیم اتر پردیش میں بھی لانچ کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت مدارس میں طلبا کی تعداد کے تناسب میں ماڈرن ٹیچرس کی تقرری کی گئی۔ امید کی جارہی تھی کہ مرکزی حکومت کی پیش رفت کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ لیکن طویل عرصہ بعد بھی مدارس میں عصری علوم کی تربیت کے لئے تعینات اساتذہ کا ضابطہ ملازمت تیار نہیں کیا جا سکا ۔

مدرسہ جدید کاری اسکیم کے تحت تعینات کئے گئے مدرسہ ماڈرن ٹیچرس ضابطہ ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے تمام سہولیات سے محروم ہیں ۔ یہاں تک کہ انہیں تنخواہ کے لئے بھی کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ کبھی کبھی تو سالوں بعد تنخواہیں جاری کی جاتی ہیں۔ ماڈرن ٹیچرس کی تنظیم اسلامک مدرسہ جدید کاری اساتذہ ایسوسیشن آف انڈیا اس ضمن میں کئی بار احتجاج کر چکی ہے ۔ باوجود اس کے مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اکثر مدارس کو جدید دور کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاح دی جاتی ہے  لیکن خود حکومت کی طرف سے شروع کی گئی مدرسہ جدیدکاری اسکیم سے سنگین لاپرواہی مرکزی حکومت کی منشا پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔

Loading...

Loading...