لا کمیشن کے انکار کے بعد یکساں سول کوڈ جیسے مسئلے پرمرکزی حکومت نے لیا یوٹرن

مختارعباس نقوی کا کہنا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے مسئلے پراب حکومت عام اتفاق رائے سے کام کرے گی۔

Sep 09, 2018 04:23 PM IST | Updated on: Sep 09, 2018 04:27 PM IST
لا کمیشن کے انکار کے بعد یکساں سول کوڈ جیسے مسئلے پرمرکزی حکومت نے لیا یوٹرن

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی۔

طلاق ثلاثہ اوریکساں سول کوڈ کے معاملے میں لاکمیشن کے رپورٹ آنے کے بعد مرکزی حکومت  بھی اپنے پرانے موقف سے پیچھے ہٹنے لگی ہے۔ مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور  مختارعباس نقوی کا کہنا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے مسئلے پراب حکومت عام اتفاق رائے سے کام کرے گی۔

الہ آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مختارعباس نقوی نے کہا کہ یکساں سول کوڈ جیسے حساس معاملے میں تمام فرقوں کی اتفاق رائے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے بارے میں ملک  میں بحث کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اکیڈمک اورصحتمند بحث ہے، اس لئے اس پر بحث ہونا چاہئے اور سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔

Loading...

واضح رہے کہ مودی حکومت کے قیام کے بعد سے ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کئے جانے کو کرکوششیں کررہی تھیں۔ لاکمیشن کے ذریعہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے کئی میٹنگیں ہوئی تھیں اوردونوں ایک دوسرے کے سامنے آگئے تھے۔ تاہم گزشتہ ہفتہ لاکمیشن نےکہا کہ ملک میں یکساں سول کوڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ لاکمیشن کے اس فیصلہ کا  مختلف ملی تنظیموں نے استقبال کرتے ہوئے اسے مودی حکومت کی شکست سے تعبیر کیا ہے۔

Loading...