اعظم گڑھ فساد : 7 حراست میں ، انٹرنیٹ سروسز بند ، 21 نامزد اور 200 نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج

اعظم گڑھ : ایس پی سپریمو ملائم سنگھ کے پارلیمانی حلقہ اعظم گڑھ میں فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلہ میں اب تک 7 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

May 16, 2016 07:20 PM IST | Updated on: May 16, 2016 09:13 PM IST
اعظم گڑھ فساد : 7 حراست میں ، انٹرنیٹ سروسز بند ، 21 نامزد اور 200 نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج

اعظم گڑھ : ایس پی سپریمو ملائم سنگھ کے پارلیمانی حلقہ اعظم گڑھ میں فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلہ میں اب تک 7 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔  دریں اثنا علاقہ میں 18 مئی تک کیلئے انٹرنیٹ خدمات بند کردی گئی ہیں ۔ انتظامیہ نے یہ فیصلہ ایس ٹی ایف کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا ہے ۔ اے ڈی جی کے مطابق علاقہ میں افواہوں کے بازار کو روکنے کیلئے انٹر نیٹ خدمات بند کردی گئی ہیں ۔ علاقے میں کثیر تعداد میں پولیس اہلکاروں اور پیراملٹری کے جوانوں کو تعینات کردیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ  پولیس سوشل میڈیا پر افواہ پھیلانے والوں پر نظر رکھ رہی ہے۔ اس درمیان پولیس نے 21 نامزد اور تقریبا 200 نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ پیر کو پولیس نے فساد بھڑکانے اور افواہ پھیلانے کے الزام میں سات افراد کو حراست میں لیا ۔

تشدد کو بڑھتے دیکھ  کر خود آئی جی زون ایس کے بھگت نے متاثرہ علاقوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی ہے ۔ 2 کمپنی پیراملٹری فورس ، 10 پی اے سی اور 10 تھانوں کی پولیس فورس کے علاوہ آس پاس کے اضلاع کی پولیس فورس کو بھی متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی پوری رات ضلع کے اعلی افسران متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کرتے رہے ۔ آئی جي زون کے مطابق افوہوں کی وجہ سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ۔ افواہ پھیلانے والے کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ آئی جی کا کہنا ہے کہ تشدد پھیلانے والوں کو کسی بھی قیمت پربخشا نہیں جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی۔

ہفتہ کی رات سے جاری تشدد کے درمیان پیر کو اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر دلجیت چودھری، اے ٹی ایس کے آئی جی اسیم ارون بھی اعظم گڑھ پہنچے اور حالات کا جائزہ لینے کے ساتھ ہی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ۔ ساتھ ہی ساتھ فلیگ مارچ بھی نکالا۔اے ڈی جی نے بتایا کہ تشدد کے معاملے میں 21 نامزد اور 150-200 نامعلوم کے خلاف مقدمہ درج کرکے 7 افراد کو حراست میں لیا گیاہے ۔ فی الحال حالات پوری طرح قابو میں ہیں۔

ادھر گورکھپور اور لکھنؤ سے بی جے پی کا وفد اعظم گڑھ کے لئے روانہ ہوا ، لیکن پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ ادھر گورکھپور سے آ رہی خبروں کے مطابق سابق کابینی وزیر اور بی جے پی کے ریاستی نائب صدر ممبر اسمبلی ڈاکٹر رادھاموهن داس اگروال کو اعظم گڑھ جاتے وقت پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی نائب صدر شیو پرتاپ شکلا اور ان کے ساتھ گورکھپور شہر کے ممبر اسمبلی ڈاکٹر رادھا موہن داس اگروال، چرنجیوی چورسیا وغیرہ اعظم گڑھ جا رہے تھے، مگر پولیس نے انہیں حراست میں لے کر جھنگها تھانے لے گئی ہے۔

Loading...

خیال رہے کہ معمولی سے تنازع کے بعد خداداد پور میں ہفتہ کی رات فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھی تھی ۔ اس دوران سی او ایس ڈی ایم تحصیلدار سمیت درجن بھر پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ عام لوگوں کو بھی چوٹیں آئیں ۔ فسادیوں نے کئی گھروں میں آگ لگانے کے ساتھ ہی ساتھ لوٹ مار کے واقعہ کو بھی انجام دیا تھا ۔ فسادات کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی طرف سے آنسو گیس کے گولے داغے گئے ۔ لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ کے بعد کسی طرح حالات کو قابو میں کیا گیا ۔

تاہم اتوار کو دن بھر تو علاقے میں امن و امان رہا ، لیکن شام ہوتے ہوتے تشدد کی آگ ایک مرتبہ پھر اچانک بھڑک اٹھی ۔ فریدآباد مارکیٹ کے قریب ایک لکڑی ٹال کو فسادیوں نے آگ کے حوالے کر دیا ، جس سے پورا گودام جل کر خاکستر ہوگیا ۔ موٹر سائیکل اور ٹریكٹر کو بھی آگ کے حوالے کر دیا گیا۔

فسادیوں نے اتوار کی رات میں ایک پہیلی مشین اور لکڑی کے ٹال میں آگ لگادی وہیں ، جگہ جگہ پر تشدد جھڑپوں میں دو افراد زخمی ہو گئے ۔ افواہ کے پیش نظر پورے ضلع میں ماحول کشیدہ ہے۔

Loading...