اتراکھنڈ: ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کے لیے ممبران اسمبلی کو پکنک پر بھیجا گیا

دہرادون : اتراکھنڈ میں سیاسی اونٹ جس طرح پل پل کروٹ لے رہا ہے، اس میں پارٹیوں کے لئے اپنے پیادوں کو بچا کر رکھنا سب سے اہم ہو گیا ہے۔ پلک جھپکتے ہی لیڈروں کے غائب ہونے کا ڈر کانگریس اور بی جے پی دونوں کو ستا رہا ہے۔

Mar 21, 2016 11:28 AM IST | Updated on: Mar 21, 2016 11:28 AM IST
اتراکھنڈ: ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کے لیے ممبران اسمبلی کو پکنک پر بھیجا گیا

دہرادون : اتراکھنڈ میں سیاسی اونٹ جس طرح پل پل کروٹ لے رہا ہے، اس میں پارٹیوں کے لئے اپنے پیادوں کو بچا کر رکھنا سب سے اہم ہو گیا ہے۔ پلک جھپکتے ہی لیڈروں کے غائب ہونے کا ڈر کانگریس اور بی جے پی دونوں کو ستا رہا ہے۔ اتوار کی شام دہرادون کے سهستردھارا ہیلی پیڈ پر پرائیویٹ ہوا بازی کمپنی کے ہیلی کاپٹر نے ایک گھنٹے میں چار پروازیں بھریں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں کچھ ارکین اسمبلی بھی تھے ، جنہیں پکنک کے لئے کسی محفوظ مقام پر بھیجا گیا۔

مانا جا رہا ہے کہ سیاسی بحران کے درمیان ممبران اسمبلی کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرانے کے پس پشت مقصد کچھ اور ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کے اراکین اسمبلی کو اپوزیشن کی نظر نہ لگ جائے، اس لیے انہیں خفیہ مقام پر بھیجا گیا ہے۔ ریاست میں سیاسی بحران میں کون کس کا ساتھی لے اڑے ، اس ڈر نے دونوں پارٹیوں کی نیند یں اڑا رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کی دونوں اہم پارٹیاں ایک دوسرے کے ممکنہ ٹوٹنے والے اراکین پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔ اس وجہ سے اپنے ممبران اسمبلی کو محفوظ رکھنے کیلئے یہ قدم اٹھایا جارہا ہے ۔

یوں تو بی جے پی دعوی کررہی ہے کہ وہ توڑ پھوڑ کی سیاست میں یقین نہیں رکھتی ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پارٹی کے تمام سینئر لیڈران اتراکھنڈ میں رہنے کی بجائے پہلے دہلی اور اب اندور میں نظر آ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ باغی ممبران اسمبلی بھی موجود ہیں۔ ادھر کانگریس نے بھی اپنے اور پی ڈی ایف کے اراکین اسمبلی پر گرفت مضبوط بنائے ہوئے ہے، تاکہ کوئی نقب نہ لگاسکے۔ 28 مارچ کو حکومت ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرے گی۔

Loading...

Loading...