کانگریس رکن پارلیمنٹ کی یوگی آدتیہ ناتھ کو نصیحت، 'اپنےعہدے کے وقارکا لحاظ رکھیں'۔

پی ایل پنیا نے کہا کہ اجودھیا کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرغورہے۔ مرکزی حکومت نے زمین واپس کرنے کولے کرعرضی داخل کی ہے، ہمیں اس پرسپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظارکرنا چاہئے۔

Jan 29, 2019 04:01 PM IST | Updated on: Jan 29, 2019 04:01 PM IST
کانگریس رکن پارلیمنٹ کی یوگی آدتیہ ناتھ کو نصیحت، 'اپنےعہدے کے وقارکا لحاظ رکھیں'۔

کانگریس ایم پی پی ایل پنیا اوریوگی آدتیہ ناتھ۔

لوک سبھا الیکشن 2019 سے قبل اجودھیا موضوع پراب مرکز کی مودی حکومت بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی اس عرضی پرکانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پی ایل پونیا کا بڑا بیان آیا ہے۔ بارہ بنکی میں منگل کو پی ایل پونیا نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے 24 گھنٹے میں مندرکی تعمیروالے بیان پرزبردست تنقید کی۔ پونیا نےکہا کہ یوگی جی کواپنےعہدے کے وقارکودھیان میں رکھنا چاہئے۔ وہ ایک آئینی عہدے پربیٹھے ہیں اوراس عہدے پررہتے ہوئے انہیں اس طرح کی بیان بازی نہیں کرنی چاہئے۔

پی ایل پونیا نے کہا کہ اجودھیا کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرغورہے۔ مرکزی حکومت نے زمین واپس کرنے کولے کرعرضی داخل کی ہے، ہمیں اس پرسپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظارکرنا چاہئے۔ آئندہ تاریخ پراس معاملے کی سماعت ہوگی، اس کے بعد ہی اس موضوع پرکچھ فیصلہ سامنے آئے گا۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام لوگوں کی امیدوں پرکھرا اترنا ہوتا ہے، لیکن اترپردیش کی یوگی حکومت کے سارے وعدے پوری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔ اترپردیش میں مسلسل لوٹ، قتل اورآبروریزی جیسے واردات میں اضافہ ہوا ہے اورمجرم بے خوف گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی ریاست میں یوپی کا لا اینڈ آرڈرپوری طرح چوپٹ ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی دائرکرکے اجودھیا معاملے کی غیرمتنازعہ زمین کورام جنم بھومی نیاس کو لوٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے عدالت سے متنازعہ زمین کوچھوڑکرباقی زمین پرجاری اسٹے کوہٹانے کی اپیل کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ اپنی آئندہ سماعت میں اس پرکیا فیصلہ کرتا ہے۔

انرودھ شکلا کی رپورٹ

Loading...