تین طلاق پر الہ آباد ہائی کورٹ کا تبصرہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت : دارالعلوم

اسلامی تعلیم ادارے دارالعلوم دیوبند کے وائس چانسلر مفتی ابو قاسم نعمانی نے کہا کہ آئین کی دفعہ25 میں ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی اور اس کی تشہیر کے یکساں حقوق دیئے گئے ہیں۔

Dec 08, 2016 11:59 PM IST | Updated on: Dec 08, 2016 11:59 PM IST
تین طلاق پر الہ آباد ہائی کورٹ کا تبصرہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت : دارالعلوم

دیوبند: اسلامی تعلیم ادارے دارالعلوم دیوبند کے وائس چانسلر مفتی ابو قاسم نعمانی نے کہا کہ آئین کی دفعہ25 میں ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی اور اس کی تشہیر کے یکساں حقوق دیئے گئے ہیں۔ ایسے میں عدلیہ کو مسلم پرسنل لاء میں دخل نہیں دینا چاہئے۔

مفتی ابو قاسم نعمانی نے طلاق کے ایک معاملے میں آج الہ آباد ہائی کورٹ کے تبصرے پر اپنا ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں طلاق دےئے جانے کو اچھا نہیں سمجھا گیا ہے، پھر چاہے یہ ایک طلاق ہو یا دو طلاق یا تین طلاق اسے شریعت نے ٹھیک نہیں مانا ہے لیکن میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہونے اور مجبوری کی صورت حال پیدا ہو جانے پر طلاق دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی شوہر سے الگ ہونے کا حق ’خلع‘ حاصل ہے۔ مفتی نعمانی نے کہا کہ تین طلاق کا کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ جہاں مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیت علمائے ہند بھی پیروکاروں میں شامل ہیں۔

مفتی کے مطابق دارالعلوم کا خیال ہے کہ عدالت کو مسلم پرسنل لاء کے ساتھ چھیڑچھاڑ نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب مذہب کے حق کو آئین کا تحفظ حاصل ہے تو طلاق دینے کو آئینی خلاف ورزی کس طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

Loading...

مفتی نعمانی نے کہا کہ اسلام میں عورتوں کو جتنے حقوق دیے گئے ہیں اتنے کسی دوسرے مذہب میں نہیں دیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں میں طلاق کے معاملات دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے بہت کم ہوتے ہیں۔

Loading...