دارالعلوم دیوبند نے تین طلاق آرڈیننس پر کیا اظہار تشویش، کہا، اسے ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے تین طلاق آرڈیننس پر کہا کہ مودی حکومت نے شرعی قانون میں مداخلت کی ہے۔ یہ تشویش کا موضوع ہے جسے ہرگز قبول نہیں نہیں کیا جاسکتا ہے۔

Sep 20, 2018 03:39 PM IST | Updated on: Sep 20, 2018 03:39 PM IST
دارالعلوم دیوبند نے تین طلاق آرڈیننس پر کیا اظہار تشویش، کہا، اسے ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا

دارالعلوم دیوبند: فائل فوٹو۔

 دنیا کے مشہور اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند نے تین طلاق پر روک لگانے سے متعلق آرڈیننس کو مسلمانوں کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے جمعرات کو بیان جاری کرکے کہا کہ ہندوستانی آئین میں ہر طبقے کو آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حق دیا گیا ہے لیکن مودی حکومت نے شرعی قانون میں مداخلت کی ہے۔ یہ تشویش کا موضوع ہے جسے ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔

دریں اثنا، سہارنپور کی تین طلاق کی متاثرہ اور سپریم کورٹ میں مقدمہ درج کرنے والی عطیہ صابری نے کہا ہے کہ اس آرڈیننس سے مسلم خواتین کو ہراسانی سے نجات ملے گی اور فخر کے ساتھ رہنے کا موقع ملے گا۔ عدالت کی وکیل فرح فیض نے کہا کہ مودی حکومت نے زبردست جرات کا مظاہرہ کیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی نے مسلم خواتین کی مصیبت کو دیکھ کر اس سے چھٹکارا دلایا ہے۔

مشہور سماجی کارکن قدسیہ انجم نے کہا کہ آرڈی نینس میں اس کا التزام نہیں کیا گیا ہے کہ تین طلاق دینے والے شوہر کے جیل جانے کے بعد اس کے خاندان کی پرورش کیسےہوگی۔ حکومت کو اس پر بھی توجہ دینی چاہئے۔

Loading...

Loading...