سماجی اصلاحات کے نام پر مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی: مفتی ابوالقاسم نعمانی

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ حکومت یا عدالت کی جانب سے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت اور سماجی اصلاح کے بہانے پرسنل لا میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

Oct 08, 2016 09:13 PM IST | Updated on: Oct 08, 2016 09:13 PM IST
سماجی اصلاحات کے نام پر مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی: مفتی ابوالقاسم نعمانی

دیوبند ۔  ’’ہمارا ملک جمہوری ہے ، یہاں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے، حکومت یا عدالت کی جانب سے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت اور سماجی اصلاح کے بہانے پرسنل لا میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ یہ بات دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہی ہے۔ انہوں نے آج یہاں جاری بیان میں کہا کہ تین طلاق اور تعدد ازدواج مسلم پرسنل کا لازمی حصہ ہیں۔‘‘اس میں کسی طرح کی تبدیلی ناممکن ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم نے مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ حلف نامے کے تناظر میں کہا کہ شریعت پر عمل کرنا آئینی حقوق اورسیکولرزم کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے، جب کہ آئینِ ہند میں ہر باشندے کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ تین طلاق اور تعدد ازدواج قرآن و سنت سے ثابت ہیں اور یہ اسلامی شریعت کا لازمی جزو ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پہلے ہی سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرچکا ہے، جس میں صراحت تھی کہ ’’پرسنل لا کو سماجی اصلاحات کی بنیاد پر دوبارہ نہیں لکھا جاسکتا‘‘، دارالعلوم دیوبند نے ہمیشہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی عدالت عالیہ پہلے متعدد مسائل میں پرسنل لا کے مطابق فیصلے کرچکی ہے، زیر بحث مسائل میں یہی رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ مرکزی حکومت یا عدالت عالیہ کی کسی کارروائی سے کسی بھی طبقہ میں بے اطمینانی پیدا ہو اور اسے وہ اپنے پرسنل لا اور مذہبی امور میں مداخلت تصور کرے، کیوں کہ دستورِ ہند سبھی مذاہب اور فرقوں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گذارنے کا حق دیتا ہے، ان حالات میں مسلم پرسنل لا میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی ناقابل قبول ہے۔

Loading...

Loading...