دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ: مردوں اورعورتوں کا ایک ساتھ کھانا کھانا حرام

شہر کے ایک محلہ کے مقامی شخص نے دارالعلوم کے محکمہ افتا کے مفتیوں کی بینچ سے کسی بھی پروگرام (شادی) میں کھانے پینے کا اجتماعی نظم کرنے اور اس میں مرد اور عورت کے ایک ساتھ کھانا کھانے اور کھڑے ہوکر کھانا کھانے کو لیکر الگ الگ سوال پوچھے تھے

Dec 19, 2018 03:03 PM IST | Updated on: Dec 19, 2018 06:28 PM IST
دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ: مردوں اورعورتوں کا ایک ساتھ کھانا کھانا حرام

دارالعلوم دیوبند

سہارنپور میں واقع عالمی شہرت یافتہ دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند نے ایک نیا فتوی جاری کرتے ہوئے کسی بھی شادی یا دیگر بڑی تقریب میں مردوں اور خواتین کا کھانا ایک ساتھ کھانے کو حرام قرار دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں مفتیوں نے شادیوں میں کھڑے ہوکر کھانے کو بھی ناجائز قرار دیا ہے۔

شہر کے ایک محلہ کے مقامی شخص نے دارالعلوم کے محکمہ افتا کے مفتیوں کی بینچ سے کسی بھی پروگرام (شادی) میں کھانے پینے کا اجتماعی نظم کرنے اور اس میں مرد اور عورت کے ایک ساتھ کھانا کھانے اور کھڑے ہوکر کھانا کھانے کو لیکر الگ الگ سوال پوچھے تھے۔ اس کے جواب میں بینچ نے صاف طور پر کہا کہ اجتماعی طور پر مردوں اور عورتوں کا ایک ساتھ شامل ہوکر کھانا کھانا حرام ہے۔ مفتیوں نے مسلمانوں کو اس سے بچنے کی نصیحت بھی دی ہے۔

Loading...

وہیں، شادی یا کسی بھی پروگرام میں کھڑے ہوکر کھانا کھانے کے سوال پرمفتیوں نے کہا کہ یہ غیروں کی تہذیب ہے۔ اسلامی تہذیب نہیں ہے۔ اس لئے کھڑے ہوکر کھانا کھانا سراسر ناجائز ہے۔ اس کے ساتھ ہی مفتیوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے عمل سے سماج کی بربادی میں دیر نہیں لگے گی۔

ادھر دارالعلوم اشرفیہ کے سینئر استاذ مولانا مفتی اطہر قاسمی نے دارالعلوم سے جاری فتوی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مفتیوں نے شریعت کی روشنی میں صحیح بتایا کہ اس طرح ایک ساتھ کھانا ناجائز اور حرام ہے۔

Loading...