بارات میں مسلم خواتین کا جانا غیرشرعی اورناجائز: دارالعلوم دیوبند

دیو بند واقع عالمی شہرت یافتہ اسلامی تعلیمی ادارہ سے جب کسی بھی مسئلے پرسوال کیا جاتا ہے تووہ شریعت کے مطابق جواب دیتا ہے۔

Dec 26, 2018 07:26 PM IST | Updated on: Dec 26, 2018 07:26 PM IST
بارات میں مسلم خواتین کا جانا غیرشرعی اورناجائز: دارالعلوم دیوبند

فائل فوٹو

دیوبند واقع اسلامی تعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند نے خواتین سے متعلق ایک نیا فتویٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بارات میں ان کے جانا ناجائزہے۔ دراصل درالعلوم دیوبند سے جب کسی موضوع پرسوال کیا جاتا ہے تووہ اس کا جواب دیتا ہے۔ اس سے قبل  دارالعلوم دیو بند نے شادی کی تقریب میں خواتین اورمردوں کے ایک ساتھ کھانا کھانے کوناجائزبتایا تھا۔

دیوبند کے موضع پھلواسی باشندہ نجم گوڑنے دارالعلوم دیوبند کے شعبہ افتا سے سوال کیا تھا کہ عام طورپرگھرسے نکاح کے لئے جب دولہا بارات لے کرنکلتا ہے تو بارات میں ناچ گانے کے ساتھ ہی اہل خانہ اوررشتہ داروں کے ساتھ ساتھ  متعلقہ خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔ کیا اس طرح کی بارات لے جانے کی شریعت اجازت دیتا ہے؟

Loading...

اس کے جواب میں دارالعلوم نے کہا ہے کہ ڈھول تاشوں اورخواتین اورمردوں کا ایک ساتھ بارات میں جانا شریعت اسلام میں ناجائز ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔ فتویٰ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگردولہن کورخصت کرانے کے لئے جانا ہوتا دولہے کے ساتھ گھرکے دو یا تین لوگوں کا جانا ہی کافی ہے۔

اس سے قبل بھی دارالعلوم دیو بند سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا ہے تووہ اس پرشرعی لحاظ سے فتویٰ دیتے ہیں، جس پرتنقید بھی کی جاتی ہے۔ نومبرکے پہلے ہفتہ میں دارالعلوم نے مسلم خواتین کے لئے نیل پالش لگانا غیرشرعی قرار دیا تھا، جس پربھی تبصرہ کیا گیا تھا۔ حالانکہ دارالعلوم دیوبند سے جب کسی بھی مسئلے پردریافت کیا جاتا ہے تب وہ اس پراپنی رائے دیتا ہے، جبکہ اسے فتویٰ کا نام دے دیا جاتا ہے۔

Loading...