مایاوتی پرقابل اعتراض تبصرہ کرنے والے دياشنكر سنگھ کو مئو کی عدالت سے ملی بڑی راحت

مئو۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کے ملزم ديا شنكر سنگھ کی ضمانت منظور کر لی گئی۔

Aug 06, 2016 06:07 PM IST | Updated on: Aug 06, 2016 06:07 PM IST
مایاوتی پرقابل اعتراض تبصرہ کرنے والے دياشنكر سنگھ کو مئو کی عدالت سے ملی بڑی راحت

مئو۔ اترپردیش میں مئو کی ایک عدالت نے آج بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کے ملزم ديا شنكر سنگھ کی ضمانت منظور کر لی۔

استغاثہ کے مطابق بی ایس پی کی صدر مایاوتی کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کے ملزم اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سےبرخاست شدہ دياشنكر سنگھ نے ایڈیشنل سیشن کورٹ (چہارم) کی عدالت میں ضمانت کیلئے عرضی دی تھی۔ ایڈیشنل سیشن کورٹ (چہارم) کی عدالت میں آج دفاعی فریق سے فتح بہادر سنگھ، شری کرشن سنگھ، سدانند رائے اور سوريہ ناتھ یادو اور استغاثہ کی جانب سے پی او، وریندر بہادر پال اور غنی احمد نے اپنا اپنا موقف رکھا۔

Loading...

ایڈیشنل سیشن جج  ڈاکٹر اجے کمار نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد ديا شنكر سنگھ  کی ضمانت منظور کر لی۔ اس کے لئے 50-50 ہزار روپے کے دو مچلکے بھرے گئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 19 جولائی کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے نکالے گئے دياشنكر سنگھ نے مئو میں بی ایس پی کی صدر محترمہ مایاوتی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کیا تھا۔ محترمہ مایاوتی نے دوسرے دن اسے راجیہ سبھا میں زوردار طریقے سے اٹھایا تھا۔ اس کے بعد بی ایس پی کارکنوں نے گزشتہ 21 جولائي کو دياشنكر سنگھ کے خلاف لکھنؤ میں دھرنا مظاہرہ کیا۔ بی ایس پی سیکرٹری میوا لال گوتم نے اسی دن دارالحکومت لکھنؤ کے حضرت گنج تھانے میں نازیبا تبصرہ کئے جانے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اس کے بعد سے دياشنكر فرار چل ر ہا تھا۔ اس معاملے میں عدالت نے دياشنكر کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا۔ گذشتہ 30 جولائی کو دياشنكر سنگھ کو پولیس ٹیم نے بہار کے بکسر سے گرفتار کرکے مئو کی عدالت میں پیش کیا  تھا، جہاں ان کی عارضی ضمانت خارج ہو جانے پر اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے ديا شنكر سنگھ نے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ میں پیشگی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کر دی گئی تھی۔

Loading...