ڈومریا گنج میں نوٹ بندی کے مودی کے فیصلے نے عام آدمی کی زندگی پٹری سے اتار دی

ڈومریاگنج۔ مرکزی حکومت نوٹ بندی کے تئیں منظم انتظام وانصرام کی چاہے جتنی دعوے کرلے تاہم اتنے دن گزرجانے کے باوجوددیہی علاقوں کے بینکوں میں مطلوبہ پیسوں کی رسائی ابھی تک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

Nov 28, 2016 09:19 PM IST | Updated on: Nov 28, 2016 09:19 PM IST
ڈومریا گنج میں نوٹ بندی کے مودی کے فیصلے نے عام آدمی کی زندگی پٹری سے اتار دی

ڈومریاگنج۔ مرکزی حکومت نوٹ بندی کے تئیں منظم انتظام وانصرام کے چاہے جتنی دعوے کرلے تاہم اتنے دن گزرجانے کے باوجود دیہی علاقوں کے بینکوں میں مطلوبہ پیسوں کی رسائی ابھی تک ممکن نہیں ہوسکی ہے،کسان بینکوں کے چکر کاٹ کاٹ کرپریشان ہے،صبح سے شام تک لمبی قطارمیں لگنے کے بعددوہزارروپئے مل پاتے ہیں جس کی ریزگاری بازارمیں ملنا ٹیڑھی کھیرکے مترادف ہے،اکثرمقامات پراے ٹی ایم میں روپئے نہ ہونے کے سبب ہفتوں سے بندپڑے ہیں جس کی خاص وجہ یہ ہے ان اے ٹی ایم مشینوں کے نئے ۲۰۰۰؍ہزاراورپانچ سوروپئے فراہم کرنے کے لائق بنایاہی نہیں گیا ہے،سردی اورکہرے کایہ عالم ہے صارف صبح ہی سے بینکوں میں مصیبتیں جھیلنے پرمجبورہیں۔

واضح ہوکہ مرکزی حکومت کے ذریعہ ۸؍نومبرکویکبارگی ہزاراورپانچ سوروپئے کے نقدی نوٹ پرحکم امتناعی جاری کرنے کے بعد سے تاحال معمولات زندگی درہم برہم سی ہوگئی ہے۔ ڈومریا گنج حلقہ میں کئی ایک بینک ہونے کے باوجودلاکھوں کی آبادی والے علاقے میں پیسوںکی بھرپائی ممکن ہی نہیں ہوپارہی ہے ۔ڈومریاگنج ،ہلور،چوکھڑا،اوراتال وغیرہ میں اے ٹی ایم مشین ہیں لیکن اکثراوقات تالے لگے رہتے ہیں کیونکہ انہیں پیسہ اداکرنے کے لائق ابھی تک بنایا ہی نہیں گیاہے ۔ڈومریاگنج واقع بھارتی اسٹیٹ بینک اے ٹی ایم چالوہے لیکن صارفین کی اتنی بھیڑہوتی ہے صبح سے قطارمیں لگنے کے باوجودپیسہ ملنے کی امیدکم رہتی ہے۔ دیگرچھوٹے چھوٹے بینک اورگراہک سیواکیندروں میں پیسے ہی ابھی تک نہیں پہونچ سکے جس سے مزید بھیڑجمع ہوجاتی ہے۔ معلوم ہوکہ ڈومریاگنج حلقہ میں ان دنوں فصلِ ربیع کی بوائی زوروں پرہے لیکن کسان روپیوں کے چلتے مجبورہیں انہیں کہیں اورجگہ سے پیسہ ملنے کی امیدہی باقی نہیں ہے۔ ڈومریاگنج میں پیسوں کی اتنی قلت ہے کہ علاقائی لوگوں کے مطابق اے ٹی ایم اوربینک سے پیسہ حاصل کرنا ناکوں چنے چبانا جیسا ہے اس پرمستزاد یہ ہے کہرے اورسردی موسم نے کمرتوڑکررکھ دی ہے ۔

اس سلسلے میں شمشیراحمد نے بتایاکہ میرے پاس گھرمیں جتنے بھی ہزاراورپانچ سونقدی نوٹ تھے حکومت کے ذریعہ ان پربین لگنے کے بعدفورااپنے کھاتہ میں جمع کردیا لیکن حکومت آئے دن اپنے قوانین ترمیم کرتی رہتی ہے جس کے چلتے دقتوں میں اضافہ ہی ہوتارہتا ہے ،انہوں نے بتایا کہ ۱؍دسمبربروزجمعرات مجھے کسب معاش کے لیے سعودی عرب جاناہے جس کے لیے لکھنؤتک ہم نے گاڑی بکنگ کرلی تھی اب حال یہ ہے جیب میں ادائیگی کے پیسے نہیں ہیں ،میراکھاتہ اوراتال اسٹیٹ بینک میں ہے لیکن مجبوری یہ ہے ابھی تک وہاں نئی نقدی دستیاب نہیں ہوسکی مجبوراڈومریاگنج اے ٹی ایم پر ہرصبح لائن لگاناپڑتاہے ،انہوں نے دردبھرے لہجے میں کہا‘ میں مسلسل گزشتہ منگلوارسے اپنے دوست کے ہمراہ ہرصبح بعد نمازفجر یہاں لائن لگاتاہے تاکہ کچھ نقدی حاصل ہوجائے تاکہ راستے کاخرچہ اورکچھ گھرکے لیے چھوڑجاؤ ں کیونکہ اے ٹی ایم سے صرف دوہزارمل پاتاہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعہ کے دن پورے دن قطارمیں لگنے کے باوجود ایک بھی پیسہ نہیں ملاجس کے بعد آج دوہزارمل سکے ہیں۔اس علاوہ بہت سارے لوگوں نے مرکزی حکومت پرغم وغصہ اتارا اورحکومت کے اس فیصلہ پرناراضگی ظاہرکی۔ یہاں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔

Loading...

Loading...