الیکشن کمیشن نے کی سزا یافتہ شخص کے الیکشن لڑنے، سیاسی پارٹی بنانے اور پارٹی عہدیدار بننے پر تاحیات پابندی کی حمایت

حلف نامے میں کمیشن نے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف چل رہے مقدموں کی سماعت ایک سال میں مکمل کرنے کے لئے خصوصی فوری عدالت بنانے کے مطالبہ کی حمایت کی ہے۔

Mar 20, 2017 09:39 PM IST | Updated on: Mar 20, 2017 09:39 PM IST
الیکشن کمیشن نے کی سزا یافتہ شخص کے الیکشن لڑنے، سیاسی پارٹی بنانے اور پارٹی عہدیدار بننے پر تاحیات پابندی کی حمایت

file photo

نئی دہلی : الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں آج سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا۔ اپنے حلف نامے میں کمیشن نے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف چل رہے مقدموں کی سماعت ایک سال میں مکمل کرنے کے لئے خصوصی فوری عدالت بنانے کے مطالبہ کی حمایت کی ہے۔ کمیشن نے ساتھ ہی سزا یافتہ شخص کے الیکشن لڑنے، سیاسی پارٹی بنانے اور پارٹی عہدیدار بننے پر تاحیات پابندی لگائے جانے کی بھی حمایت کی ہے۔

کمیشن نے حلف نامہ میں کہا ہے کہ اس نے سیاسی جرائم کے لئے خاتمہ کیلئے تجاویز وزارت قانون کے پاس بھیجے ہیں، لیکن وہ اب زیر التوا ہیں۔ اس کے علاوہ پیڈ نیوز پر پابندی لگانے، انتخابات سے 48 گھنٹے پہلے پرنٹ میڈیا میں اشتہارات پر پابندی لگانے، رشوت لینے کو سنگین جرم بنانے اور انتخابی خرچ کی دفعات میں ترمیم کی تجویز شامل ہیں۔

تاہم الیکشن لڑنے کے لئے کم از کم تعلیمی لیاقت اور زیادہ سے زیادہ عمر کی حد مقرر کئے جانے کے مطالبے پر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ اس سلسلے میں قانون بنایا جا سکتا ہے۔ دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اشونی اپادھیائے نے اپنی درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ رہنماؤں اور نوکرشاہوں کے خلاف چل رہے مقدموں کی سماعت ایک سال میں مکمل کرنے کے لئے خصوصی فوری عدالت کا قیام کیا جائے۔

Loading...

Loading...