سدھارتھ نگر میں 200سے زیادہ گاؤں سیلاب کی زد میں، شہرت گڑھ اور بڑھنی اسٹیشنوں کے بیچ ریلوے خدمات ٹھپ، ہائی الرٹ کا اعلان

اترپردیش کا سدھارتھ نگر ضلع ان دنوں زبردست سیلاب کی زد میں ہے۔

Jul 28, 2016 02:25 PM IST | Updated on: Jul 28, 2016 02:52 PM IST
سدھارتھ نگر میں 200سے زیادہ گاؤں سیلاب کی زد میں، شہرت گڑھ اور بڑھنی اسٹیشنوں کے بیچ ریلوے خدمات ٹھپ، ہائی الرٹ کا اعلان

سدھارتھ نگر۔ اترپردیش کا  سدھارتھ نگر ضلع ان دنوں زبردست سیلاب کی زد میں ہے۔  گنگا کے بعد اب نیپال سے نکلنے والی بوڑھی راپتی ،کوڈا اور گھوگھی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں ،جس سے دو سو سے زیادہ گاؤں سیلاب کی زد میں آگئے ہیں۔انتظامیہ نے ہائی الرٹ کا اعلان کردیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ بوڑھی راپتی ندی خطرے کے نشان سے ڈھائی میٹر اوپر بہہ رہی ہے اور اس کی آبی سطح فی گھنٹہ دس سینٹی میٹر بڑھ رہی ہے۔ ضلع کے شہرت گڑھ ،نو گڑھ ،اٹوا اور ڈومریا گنج تحصیل کے دو سو سے زیادہ گاؤں سیلاب کی زد میں آگئے ہیں۔سیکڑوں گاؤں سیلاب کے پانی سے پوری طرح گھر گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرلوگوں نے راحت کے انتظار میں مکان کی چھتوں پر اور درختوں پرپناہ لی ہوئی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فورس (این ڈی آر ایف )،سشستر سیما بل (ایس ایس بی )،پی اے سی اور پولیس کے علاوہ ریوینیو افسروں کو بھی سیلاب سے نپٹنے کےلئے راحت کےکاموں میں لگایا گیا ہے۔29ڈیزاسٹر کمیپ شروع کردئے گئے ہیں ۔ سیلاب سے ایک سو سے زیادہ پرائمری اور دیگر اسکول پانی سے گھر گئے ہیں اور پانی سڑکوں پر آجانے سے آمدو رفت بھی بند ہوچکی ہے۔

Loading...

فائل فوٹو فائل فوٹو

شمال مشرقی ریلوے کے گونڈا -گورکھپور لوپ لائن پر پرسا ریلوے اسٹیشن کے نزدیک سیلاب کا پانی آجانے سے شہرت گڑھ اور بڑھنی اسٹیشنوں کے درمیان ریلوے خدمات بند کردی گئی ہیں۔ بوڑھی راپتی پر بنے ککرہی پل کو آمدورفت کے لئے بند کئے جانے سے ضلع ہیڈ کوارٹر اور بستی ڈیویژن ہیڈکوارٹر سے براہ راست سڑک رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ گزشتہ روز تین دنوں میں سیلاب کے پانی میں ڈوبنے سے تین لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ نیپال کے ذریعہ اور پانی چھوڑے جانے کے خدشے سے ضلع میں راحت کے کام میں مصروف اہلکاروں کو محتاط کردیا گیا ہے۔

Loading...