اتراکھنڈ: وزیر اعلی ہریش راوت کی 28 مارچ کو ہوگی اگنی پریکشا

دہرادون : اتراکھنڈ کی کانگریس حکومت پر چھائے سیاسی بحران کے درمیان وزیر اعلی ہریش راوت کو فی الحال تھوڑی راحت مل گئی ہے ۔ گورنر نے انہیں 28 مارچ تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کیلئے کہا ہے ۔ حکومت کے اقلیت میں آ جانے کی دلیل دیتے ہوئے اسے فوری طور پر برطرف کرنے کے بی جے پی کے مطالبہ کو نظر انداز کرکے گورنر نے وزیر اعلی ہریش راوت کو راحت دے دی ۔

Mar 20, 2016 10:52 AM IST | Updated on: Mar 20, 2016 10:52 AM IST
اتراکھنڈ: وزیر اعلی ہریش راوت کی  28 مارچ کو ہوگی اگنی پریکشا

دہرادون :  اتراکھنڈ کی کانگریس حکومت پر چھائے سیاسی بحران کے درمیان وزیر اعلی ہریش راوت کو فی الحال تھوڑی راحت مل گئی ہے ۔  گورنر نے انہیں 28 مارچ تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کیلئے کہا ہے ۔ حکومت کے اقلیت میں آ جانے کی دلیل دیتے ہوئے اسے فوری طور پر برطرف کرنے کے بی جے پی کے مطالبہ کو نظر انداز کرکے گورنر نے وزیر اعلی ہریش راوت کو راحت دے دی ۔

گورنر نے جمعہ کو اسمبلی  کے  پورے واقعے پر  ہریش راوت کو ایک خط لکھا ہے ۔ خط میں انہوں نے تعطل دور کرکے 28 مارچ تک ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا وقت دیا ہے ۔  گورنر کی جانب سے وقت سے ملنے کے بعد اب ہریش راوت نے بھی جارحانہ رخ اختیار کر لیا ہے ۔ انہوں نے اپنے کابینہ کے ساتھی ہرک سنگھ راوت کو کابینہ سے باہر کر دیا ہے ۔

Loading...

اس سے قبل وزیر اعلی ہریش راوت نے دعوی کیا کہ ان کی حکومت اکثریت میں ہے اور اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو تیار ہیں۔ مسٹر راوت نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’چار پانچ رکن اسمبلی ہمارے رابطہ میں ہیں۔ ہم باغی ممبران اسمبلی کو وقت دے رہے ہیں کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کریں اور اس کے لئے معافی مانگیں۔ میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ یہاں آکر بات کریں۔ وہ دہلی کیوں بھاگ رہے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں اور اگر ایسا نہیں کر پائے تو استعفی دے دیں گے۔ مسٹر راوت نے آج کابینہ کی میٹنگ طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ اتراکھنڈ میں چار سال پرانی کانگریس حکومت بحران میں گھر گئی ہے۔ کانگریس کے9 اراکین اسمبلی نے بغاوت کر دیا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکومت بنانے کے دعوے کی حمایت کی ہے۔ سابق وزیر اعلی وجے بہوگنا نے مسٹر راوت سے استعفی کا مطالبہ کر کے ان کی مشکلوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

Loading...