گود لینے والے خاندان نے نابالغہ کو دھکیلا جسم فروشی کے دھندہ میں، 40 مرتبہ ہوئی عصمت دری کا شکار، اب اسقاط حمل کی مانگ رہی ہے اجازت

پانی پت میں ایک 14 سالہ نابالغہ کو غریب خاندان سے گود لینے کا ڈرامہ کیا اور پھر جسم فروشی کے دھندہ میں دھکیل دیا۔

Nov 15, 2018 10:08 PM IST | Updated on: Nov 15, 2018 11:14 PM IST
گود لینے والے خاندان نے نابالغہ کو دھکیلا جسم فروشی کے دھندہ میں، 40 مرتبہ ہوئی عصمت دری کا شکار، اب اسقاط حمل کی مانگ رہی ہے اجازت

نابالغہ کی تصویر

پانی پت میں ایک 14 سالہ نابالغہ کو غریب خاندان سے گود لینے کا ڈرامہ کیا اور پھر جسم فروشی کے دھندہ میں دھکیل دیا۔ ایک غریب خاندان سے تقریباََ 3 سال قبل گاوں کے ہی ایک شخص نے ان کی 11 سالہ بچی کو گود لے لیا تھا۔ گود لینے کے بعد کروکشیتر کے ایک ڈھابے پر اس بچی سے زبردستی جسم فروشی کروائی جاتی رہی۔ کسی کے ذریعہ جب بچی کے والدین کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس کی شکایت پانی پت پولیس سپرنٹنڈنٹ سے کی۔

شکایت کے بعد کاروائی نہ ہوتے دیکھ نابالغہ کے اہل خانہ کرنال رینج کے آئی جی نودیپ سنگھ کے پاس پنچے۔ آئی جی نے فورا کاروائی کرتے ہوئے ایس آئی ٹی تشکیل دی اور جانچ کا حکم دیا ہے۔ نابالغہ نے بتایا کہ اس کے ساتھ اب تک تقریباََ 40 لوگوں نے عصمت دری کی۔

فی الحال وہ 2 ماہ کی حاملہ بھی ہے۔ اب متاثرہ کچھ تنظیموں کے ساتھ اور شہر کے وکیل مومن ملک کے ساتھ مل کر ڈپٹی کمیشنر سے 2 ماہ کے بچے کا اسقاط حمل کی اجازت لینے پہنچی ہیں۔

Loading...

وہیں دوسری جانب نابالغہ کے اہل خانہ نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ تین ماہ قبل اس بات کا انکشاف ہو چکا تھا۔ ناری نکیتن میں بھیجنے کے بعد لڑکی کی صحیح طرح سے کاونسلنگ نہیں ہو پائی۔ اگر کاونسلنگ ہوتی تو سارا معاملہ پہلے ہی واضح ہو جاتا اور یہ دیکھنا نہیں پڑتا۔

 

Loading...