ایک ہی تانگے سے مقدمہ لڑنے جاتے تھے آنجہانی پرم هنس اور مرحوم ہاشم انصاری

دونوں اپنے اپنے مکانوں سے نکل کر سڑک پر آتے تھے اورتانگے پر سوار ہو کر کچہری پہنچتے تھے۔ کچہری میں دونوں اپنے اپنے وکیل کے کمرے پر چلے جاتے تھے ۔ شام کو دونوں پھر ایک ساتھ اجودھیا لوٹتے تھے۔

Jul 20, 2016 09:31 PM IST | Updated on: Jul 20, 2016 09:31 PM IST
ایک ہی تانگے سے مقدمہ لڑنے جاتے تھے آنجہانی پرم هنس اور مرحوم ہاشم انصاری

اجودھیا : رام جنم بھومی / بابری مسجد تنازعہ میں محمد ہاشم انصاری ایک فریق کے پیروکار ہونے کے باوجود ہندو مسلم اتحاد کے اس قدر حمایتی تھے کہ وہ پرم هنس رام چندر داس کے ساتھ ایک ہی تانگے پر مقدمہ لڑنے جاتے تھے۔ تنازعہ کو بات چیت یا عدالتی حکم سے نمٹانے کی حمایت کرنے والے مرحوم انصاری اور آنجہانی پرم هنس میں گاڑھی دوستی تھی۔ دونوں اجودھیا سے ایک ہی تانگے پر فیض آباد کچہری مقدمہ لڑنے جاتے تھے۔ رام چندر پرم هنس داس رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کے ایک اہم پیروکار تھے۔ ان کا انتقال قریب 13 سال پہلے ایودھیا میں ہوا تھا۔

دونوں اپنے اپنے مکانوں سے نکل کر سڑک پر آتے تھے اورتانگے پر سوار ہو کر کچہری پہنچتے تھے۔ کچہری میں دونوں اپنے اپنے وکیل کے کمرے پر چلے جاتے تھے ۔ شام کو دونوں پھر ایک ساتھ اجودھیا لوٹتے تھے۔ مرحوم انصاری نے خود ایک بار بتایا تھاکہ ہم لوگوں کے ایک ساتھ نکلنے پر اکثر بار طنز بھی کیا جاتا تھا۔ ہمارے ساتھ آنے جانے کا یہ سلسلہ اسی(80) کی دہائی میں اس وقت ٹوٹا جب وشو ہندو پریشد کا اس معاملے میں مداخلت بڑھا۔وی ایچ پی نے اسے سیاسی مسئلہ بنا دیا۔ پرم ہنس کی موت پر مرحوم انصاری 31 جولائی 2003 کو ان کی موت پر پھوٹ کر روئے تھے اورکہا تھاکہ میرا دوست مجھ سے پہلے چلا گیا ۔

مرحوم انصاری کی ہندوؤں میں مقبولیت کا عالم یہ رہا کہ ان کے انتقال کی خبر آتے ہی دوسروں کے ساتھ ہندو دھرم اچاريوں کا ان کی رہائش گاہ پر آنا شروع ہو گیا۔ رام جنم بھومی کے آس پاس تحویل احاطے کے قریب ہی واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچنے والوں میں آل انڈیا اكھاڑا پریشد کے سابق صدر گیان داس اور رام جنم بھومی کے اہم پجاری آچاریہ ستیندر داس شامل تھے۔ مرحوم سے انتہائی نظریاتی اختلافات رکھنے والے وشو ہندو پریشد نے بھی ان کے انتقال پر غم کا اظہار کیا اور کہا کہ جنونیوں کو مرحوم انصاری کے خیالات سے سبق لینا چاہئے۔

وی ایچ پی میڈیا انچارج شرد شرما نے کہا کہ مرحوم انصاری اپنے خیالات پر ہمیشہ قائم رہے۔ ان کے خیالات انہی کی طرح سہل تھے. وہ چاہتے تھے کہ باہمی رضامندی یا عدالت کے ذریعے مندر مسجد تنازعہ کا حل نکلے۔ وہ ایک اچھے انسان تھے۔

Loading...

Loading...