ہندو کورٹ کی خود ساختہ جج پوجا نے کہا : ضرورت پڑی تو گوڈسے کی طرح دیں  گی سزائے موت

پوجا شکن پانڈے کا کہنا ہے کہ جب شرعی عدالتیں ہوسکتی ہیں تو ہندو عدالت بھی ہوسکتی ہے ، اس کو کسی کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے ۔

Aug 24, 2018 04:59 PM IST | Updated on: Aug 24, 2018 05:06 PM IST
ہندو کورٹ کی خود ساختہ جج پوجا نے کہا : ضرورت پڑی تو گوڈسے کی طرح دیں  گی سزائے موت

ہندو کورٹ کی پہلی جج ڈاکٹر پوجا شکن پانڈے

اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا نے گزشتہ دنوں میرٹھ میں پہلی ہندو عدالت کا قیام کیا ۔ اس ہندو کورٹ کی پہلی جج ڈاکٹر پوجا شکن پانڈے کا کہنا ہے کہ جب شرعی عدالتیں ہوسکتی ہیں تو ہندو عدالت بھی ہوسکتی ہے ، اس کو کسی کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے ۔اس عدالت میں ہندووں کے آپسی تنازعات کا نمٹارہ کیا جائے گا ۔ پہلی جج کے طور پر ڈاکٹر پوجا شکن نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ناتھو رام گوڈسے کی طرح وہ بھی سزائے موت دیں گی ۔

غور طلب ہے کہ ہندو مہا سبھا ناتھورام گوڈسے کو اپنا آئیڈل مانتی ہے اور ہندو مذہب کے تحفظ کیلئے گوڈسے کے نقش قدم پر چلنے کی بات بھی کرتی ہے ۔ ہندو مہاسبھا کا کہنا ہے کہ وہ 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے ، کیونکہ تقسیم کے دوران بہت سارے لوگ مارے گئے تھے ۔ لہذا 15 اگست کو خوشیاں کیسے منائی جاسکتی ہیں۔

ہندو کورٹ کی پہلی جج پوجا شکن کا کہنا ہے انہوں نے ہندووں کی سیاست کی ہے ، اس کورٹ میں ان کو بھی انصاف ملے گا جن کے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ اس نے کہا کہ جلد ہی اترپردیش کے ہر ضلع میں ایک عدالت قائم کی جائے گی ۔ فی الحال علی گڑھ ، میرٹھ ، ہاتھرس اور الہ آباد میں چار کورٹ تیار ہیں ۔

Loading...

Loading...