ڈومریا گنج میں ہیں کئی تاریخی مساجد ، مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں

قومی یکجہتی کانقیب اور گنگاجمنی تہذیب کاپاسبان سدھارتھ نگر ضلع کامشہور حلقہ ڈومریاگنج میں آج بھی کئی آثارقدیمہ موجود ہیں ، جویہاں کے اتحاد کاواضح ثبوت ہیں

Aug 28, 2016 06:59 PM IST | Updated on: Aug 28, 2016 06:59 PM IST
ڈومریا گنج میں ہیں کئی تاریخی مساجد ، مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں

ڈومریاگنج : قومی یکجہتی کانقیب اور گنگاجمنی تہذیب کاپاسبان سدھارتھ نگر ضلع کامشہور حلقہ ڈومریاگنج میں آج بھی کئی آثارقدیمہ موجود ہیں ، جویہاں کے اتحاد کاواضح ثبوت ہیں ۔ ان میں مغلیہ دور کی قدیم شاہی مساجد توجہ کامرکز ہیں، جوآج بھی اپنی اصلی شکل و صورت میںقائم ہیں۔ شہنشاہ مغل کے دور میں تعمیرہوئی شاہی مساجد جن میں کرتھی ڈیہہ، ترینا، قادرآباد، پسائی ، دھنکھرپور، چوکنیاں بھارت قابل دیدہیں ۔ ان مسجدوں کی تعمیرایک ہی قسم سے کی گئی ہے اور ان میں تین تین بڑے گول گنبد،دوبڑے اوردوچھوٹے مینار،مسجدکی لمبائی چوڑائی تقریبایکساںہیں ،جس میں صف کی جگہ موجود ہے۔

ان مساجد کی خصوصیت یہ ہے کہ شدیدگرمی اورتپش کے دنوں میں بھی ان میں گرمی کااحساس نہیں ہوتاہے ۔ مزید یہ ان کے صحن آج کے تعمیرکردہ مکانات سے بھی بلندہیں ۔ان مساجد کی سن تاسیس کے سلسلہ میں گاؤں کے سن رسیدہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی تاسیس کی تاریخ تو یاد نہیں ہے ۔کرتھی ڈیہہ کے ایک باشندہ ابوالکلام جن کی عمرتقریبا 80 سال ہے ، ان کے مطابق جب وہ طفل مکتب تھے ، تواس وقت کے بڑے بزرگ بھی اس کی تاریخ نہیں جانتے تھے ۔

اسی گاؤں کے رہنے والے ایک اور شخص عبدالکلام کے مطابق ہم کیاہم سے دوتین پہلے کی نسل بھی اس کی تاریخ بتانے سے قاصر تھی۔ انہوں نے مزید بتایاکہ جب نمازیوں کی کثرت ہوئی تو 1961 میں ہم لوگوں نے اس میں مزیداضافہ کیا، جس میں جگہ جگہ دراڑاورشگاف ہوگیاہے ۔ لیکن شاہی تعمیرکردہ مسجد میں کہیں کوئی شگاف نہیں ہے ۔

اسی طرح جب تریناکی شاہی مسجد کے سلسلہ میں وہاں کے معمر لوگوں سے رابطہ کیاگیا، تو ان کی بھی روداد کچھ ایسی ہی تھی۔تاہم لوگوں نے اس بات کی شکایت کی ، ہمارے علاقہ میں موجود تاریخی شاہی مساجد کوآج تک محکمہ آثار قدیمہ کا کوئی بھی افسر دیکھنے نہیں آیا اور اس کے رنگ وروغن کاکام ہم لوگ خود کرتے ہیں۔ انہوں محکمہ ٔآثار قدیمہ سے مطالبہ کیاکہ وہ ہندوستانی قدیم تاریخ کاحصہ ان مساجد کی حفاظت کریں ۔

Loading...

Loading...