'ہیومن اسٹوری: ڈاکٹر بننا چاہتا تھا پلوامہ کا حملہ آور، بھائی نے بتایا کیسے بن گیا 'دہشت گرد

'اس کا خون گرم تھا۔ بار۔بار زیادتی ہوئی تو وہ تیار ہوگیا'۔'

Feb 22, 2019 01:00 PM IST | Updated on: Feb 22, 2019 01:09 PM IST
'ہیومن اسٹوری: ڈاکٹر بننا چاہتا تھا پلوامہ کا حملہ آور، بھائی نے بتایا کیسے بن گیا 'دہشت گرد

اس کا خون گرم تھا، بار۔بار زیادتی ہوئی تو وہ تیار ہوگیا۔ ہمیں اندازہ بھی نہیں تھا وہ اتنا بڑا قدم اٹھائے گا۔ 14 فروری کو ہم نے جو جانا ہم اس عادل سے کبھی ملے ہی نہیں تھے'۔

۔(14فروری۔ سی آر پی ایف کے جوان سری نگر جارہے تھے۔ جگہ۔این ایچ44 وقت۔ دوپہر کا سواتین۔ ترتیب وار چلتی گاڑیوں کے درمیان ایک اسکارپیو تیزی سے قافلے کی طرف بڑھی اور اس سے پہلے کہ کوئی سمجھ پائے فوج کی ایک بس سے ٹکرا گئ۔ دہلا دینے والا دھماکہ، خون، چیتھڑے، چیخ۔پکار۔۔۔! 40 شہیدوں کے جسد خاکی کے ساتھ ایک لاش بھی شامل تھی۔ عادل! وہ انسانی بم، جو پہلے 90 کی دہائی کے بعد ایک وادی میں فوج پرسب سے خوفناک دہشت گردی کا حصہ بنا۔ فرخ احمد ڈار، عادل کا بھائی، اس وقت کو یاد کرتا ہے جب بھائی بچہ تھا، پڑھنے اور خواب دیکھنے کا شوقین۔۔ کورڈنیشن: قیوم خان ، نیوز18، سری نگر)۔

عادل جیش محمد سے جڑا ہوا تھا وہ تنظیم جو مذہب یا آزادی کے نام پر لوگوں کی جان لیتی ہے۔ دنیا اسی عادل کو جانتی ہے لیکن ہم نے اس عادل کو کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے دیکھا ہے اس پڑھاکو عادل کو، جو ڈاکٹر کا سفید کوٹ پہننا چاہتا تھا۔ اسکول سے لوٹنےکے بعد من لگاکر پڑھتا۔ میں اس عادل کو بھی دیکھتا جو امی کی ایک آواز پر دوڑ۔دوڑ کر گھر کے کام میں ہاتھ بنٹاتا تھا۔ چھٹی کے روز ابو کے ساتھ پھیری لگاتا۔

اس کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے، تقریبا 17 منٹ کی بات چیت میں فرخ کئی مرتبہ دہراتے ہیں۔

Loading...

!ڈاکٹر ہونے کا خواب انسانی بم بننے تک کیسے پہنچا

حالات اس کا تھوڑا بہت اندازہ دے دیتے ہیں۔ یہ ہے جنوبی کشمیر کا گنڈی باغ گاؤں۔ عادل کا گاؤں۔ جس دنیا میں عادل پلا۔بڑھا، وہ عام بچوں کی دنیا نہیں۔ وہاں آسمان سے آتش بازی نہیں، گولے۔بارود سے روشن ہوتا ہے۔ وہاں کی زمین خون کی سرخی لئے ہوئے ہے۔ وہاں بچے گھروں سے باہر کھیلنے والے کھیل نہیں جانتے۔ اسی بچپن کے ساتھ بڑا ہوا عادل۔ والد پھیری والے تھے۔ سائیکل پر گھومتے ہوئے موسمی کپڑے بیچا کرتے۔ ننھا عادل کبھی والد کی مدد کرتا، کبھی امی کی۔

گھر کے باہرآئےدن  کشمیریوں، دہشت گردوں اور فوج کے درمیان انکاؤنٹر ہوتا۔ عادل نےاس سے الگ ایک دنیا بنالی تھی، جس میں وہ خود کو ڈاکٹر بنا دیکھا کرتا تھا۔

وقت کے ساتھ باہری دنیا اس کی اس دنیا سے ٹکرانے لگی تھی۔

وہ کشمیری اسٹوڈینٹ کے ساتھ اکثر زیادتی ہوتے دیکھتا، فرخ یاد کرتے ہیں کوئی بھی واردات ہو، فورا کم عمر کشمیری لڑکوں کو گھیر لیا جاتا، ہوچھ گچھ ہوتی۔ وہ ہمیشہ شک کے گھیرے میں رہتے۔ ایک روزعادل بھی اسی دائرے میں آگیا۔ اسکول سے لوٹتے ہوئے اسے پکڑ کر پوچھ گچھ کی جانے لگی۔ تب تو عادل گھر لوٹ آیا لیکن پھر ایسااکثر ہونے لگا۔ ایک روز گھر لوٹا تو دیر تک کمرے سے باہر نہیں آیا۔ امی کی مدد کو بھی نہیَ کھانے کیلئے بھی نہیں۔

جب باہر نکلا تو اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس روز کیا ہوا تھا۔

عادل احمد ڈار عادل احمد ڈار

ڈاکٹری پڑھنے کے خواب دیکھنے والا عادل اس روز کہیں کھو۔سا گیا، اب جو عادل تھا وہ غصے سے بھرا رہتا۔ کبھی ایک دم گم سم ہوجاتا۔ کبھی کشمیریوں کو ہو رہی تکلیفوں کی بات کرنے لگا۔ پہلے وہ ان مسئلوں پر کبھی نہیں بولا تھا۔ ہمیں لگا گرم خون ہے، سنبھل جائے گا۔ تب عادل 18 برس کی عمر  کے آس۔پاس تھا۔ اب وہ ابو کے ساتھ پھیری پر نہیں جاتا، کبھی۔کبھی اسکول جاتا، مسجد البتہ اصول سے جانے لگا اور نوجوانوں کو پیار میں نہ پڑنے کی ہدایت دینے لگا۔

کشمیری نوجوانوں سے اپنے آخری پیغام میں بھی اس نے کہا تھا۔ 'ڈو ناٹ فال ان لو'۔

مارچ 2018۔ عادل 12 ویں کا امتحان دینے کیلئے گھر سے نکلا تھا۔ جاتے وقت اور دنوں سے الگ امی سے بیحد ملامیت سے ملا، بہنوں سے بات کی، میرا ہاتھ پکڑا۔ ابو کو دیکھا، ہمیں لگا، غصہ ٹھنڈا ہو رہا ہے، پرانہ عادل جلد لوٹے گا۔ وہ آخری مرتبہ ہم نے اسے دیکھا تھا۔ امتحان کے بعد وہ نہیں لوٹا۔ آس۔پاس فون کال کیا، کھوج۔ڈھونڈ کی، وہ نہیں ملا۔ لگا کہ کسی رشتہ دار کے یہاں گیا ہوگا۔ تین دن بعد ایف آئی آر درج کرائی۔ پولیس کے پاس تصویر دی۔ ہمارا عادل گمشدہ تھا۔

وادی میں عام طور پر لڑکے کے کھونے کے کئی مطلب نہیں ہوتے۔ گمشدہ کی تلاش میں پولیس ہمارے  گھر بھی آئی۔

تقریبا مہینے بھر بعد سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی۔ عادل جیش محمد میں شامل ہوچکا تھا۔

اس کا نیا نام وقاص کمانڈو، ہاتھ میں اے کے 47 تھی۔ عادل مل چکا تھا لیکن ہم نے اپنے بھائی کو ہمیشہ کیلئے کھو دیا تھا۔ پھر تو گھر پر دبش دی جانے لگی۔ سراغ کھوجنے میں پورا سامان ادھر۔ادھر پھینک دیا جاتا۔ پوچھ گچھ ہوتی ہم وہ سب بتاتے جو ہم جانتے تھے۔ کچھ نہ جاننا۔ اس کے بعد فوج اور پولیس کو کئی مرتبہ عادل کی بھنک ملی۔

پولیس ریکارڈ میں وہ 'سی 'گریڈ کا دہشت گرد تھا۔ یعنی ایسا دہشت گرد جس سے خوف کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔ امی دسترخوان بچھاتے ہوئے روتیں، ابا اور زیادہ گم سے رہنے لگے تھے۔ کہیں نہ کہیں ہم جانتے تھے کہ ہمارا عادل اب کبھی نہیں لوٹے گا۔ انتظار تھا تو بس اس دن کا جب یہ بات پکی ہوجائے۔

'عادل کا قصور اتنا تھا کہ وہ طالب علم تھا اور کشمیری تھا'

فون کے دوسرے سرے پر بھی آواز کی بےچارگی اورغصہ صاف تھا۔  'کشمیر میں کچھ  بھی ہوتا تو کشمیری لڑکوں پر بندوق تن جاتی ہیں، وہ بچہ تھا، اس کا خون گرم تھا، بار۔بار زیادتی ہوئی تو وہ تیار ہوگیا۔ ہمیں اندازہ بھی نہیں تھا وہ اتنا بڑا قدم اٹھائے گا۔ 14 فروری کو ہم نے جو جانا ہم اس عادل سے کبھی ملے ہی نہیں تھے'۔

میں نے اپنا بھائی کھویا ہے۔ امی بے جان پڑی رہتی ہیں۔۔عادل کے ساتھ۔ساتھ ہم ان لوگوں کو بھی سوچتے ہیں جو اس روز مارے گئے۔ کتنے بچے یتیم ہو ئے۔ کتنوں کی اولاد گئ۔ کتنی عورتیں بیوہ ہوگئیں۔ کیا گزرتی ہوگی ان پر! ہم نے بھی بیٹا کھویا، ان کا درد سمجھ پاتے ہیں۔

کشمیری اور خون خرابہ نہیں چاہتے۔ نہ کشمیر میں ۔ نہ پورے ہندستان میں۔

Loading...