بارہویں کلاس میں فیل ... 17 سال کی عمر میں گھر چھوڑا، اب انگلینڈ دورے پر ہیں ٹیم انڈیا کا "ٹرمپ کارڈ "۔

دنیا کے کئی ایسے کرکٹر ہیں ، جنہوں نے اسٹار بننے سے پہلے کئی مصیبتیں جھیلی ہیں۔ پریشانیوں سے لڑ کر ہی وہ آج کامیاب ہوئے ہیں ۔

Jul 20, 2018 04:27 PM IST | Updated on: Jul 21, 2018 11:41 AM IST
بارہویں کلاس میں فیل ... 17 سال کی عمر میں گھر چھوڑا، اب انگلینڈ دورے پر ہیں ٹیم انڈیا کا

فائل فوٹو

دنیا کے کئی ایسے کرکٹر ہیں ، جنہوں نے اسٹار بننے سے پہلے کئی مصیبتیں جھیلی ہیں۔ پریشانیوں سے لڑ کر ہی وہ آج کامیاب ہوئے ہیں ۔ انہیں لوگوں میں سے ایک نام مرلی وجے کا بھی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ 17 سال کی عمر تک اس کھلاڑی کا مستقبل بھنور میں پھنسا ہوا تھا ۔ مرلی وجے کو یہ نہیں معلوم تھا کہ انہیں کیا بننا ہے ؟ کیا کرنا ہے ؟ لیکن پھر بھی اس کھلاڑی نے تمام مشکلات کا سامنا کیا اور آج وہ ٹیم انڈیا کے سب سے بھروسہ مند سلامی بلے بازوں میں سے ایک مانے جاتے ہیں ۔

مرلی وجے پڑھائی کی پچ پر انتہائی خراب بلے بازی کرتے تھے ۔ بارہویں کے بورڈ امتحان میں وہ فیل ہوگئے تھے ۔ بورڈ میں فیل ہونے کے بعد مرلی وجے نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ مرلی وجے کے گھر چھوڑنے کے فیصلہ سے ان کے کنبہ کو کافی تشویش لاحق ہوگئی ، انہیں احساس ہوا کہ مرلی فیل ہونے کے بعد مایوس ہوگئے ہیں اور کہیں وہ کوئی غلط قدم نہ اٹھالیں ۔ لیکن ایسا نہیں تھا ، مرلی وجے نے کچھ اور ہی سوچا ہوا تھا ، مرلی وجے نے اپنے والدین سے کہا کہ گھبرائیے نہیں میں خود کشی نہیں کروں گا ، میں اپنے مطابق رہنا چاہتا ہوں ، خود کو پہچاننا چاہتا ہوں ۔

مرلی وجے نے گھر چھوڑنے کے بعد اپنے دوستوں کے گھر راتیں گزاریں ۔ یہی نہیں کئی مرتبہ وہ چنئی وائی ایم سی اے اور آئی آئی ٹی کرکٹ گراونڈ میں بھی سوئے ۔ مرلی وجے پیڑوں کے نیچے بھی سوئے ۔ مرلی وجے نے کرکٹ پریکٹس کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم نوکریاں بھی کیں ۔ انہوں نے اسنوکر پارلر میں بھی کام کیا۔ ٹیم انڈیا کے موجودہ بالنگ کوچ بھرت ارون نے مرلی وجے کی صلاحیت کو پہنچانا اور انہیں چنئی کلب کرکٹ لیگ میں کھیلنے کی پیش کش کی ۔ پہلے پانچ میچوں میں مرلی وجے کو موقع نہیں ملا ، لیکن جب وہ پہلی مرتبہ میدان پر اترے تو انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

Loading...

مرلی وجے ۔ فوٹو کریڈٹ : ٹویٹر ۔ مرلی وجے ۔ فوٹو کریڈٹ : ٹویٹر ۔

مرلی وجے جب 21 سال کے ہوئے تو ان کی بلے بازی کی شہرت پورے تمل ناڈو میں تھی ۔ امید جتائی جارہی تھی کہ وہ تمل ناڈو رنجی ٹیم میں سلیکٹ کئے جائیں گے ، لیکن لمبے بالوں کی وجہ سے وہ ٹیم میں سلیکٹ نہیں کئے گئے ۔ اس واقعہ سے مرلی وجے کافی مایوس ہوئے ، لیکن گھبرائے نہیں ۔ مرلی وجے نے سال 2006 میں اپنا فرسٹ کلاس ڈیبو کیا اور انہوں نے دہلی کے خلاف پہلی ہی اننگز میں 59 رنوں کی اہم اننگز کھیلی ۔ سال 2008 میں مرلی وجے نے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ ڈیبو کیا ۔

Loading...