اترپردیش :  شیعہ وقف بورڈ کی ملی بھگت سے وقف املاک میں خرد برد کئے جانے کا الزام

وقف املاک پر ناجائز قبضوں کے زیادہ تر معاملوں میں وقف بورڈ کی سانٹھ گانٹھ اور کارروائی کو لے کر ضلع انتظامیہ کی لاپرواہی اجاگر ہوتی رہی ہے ۔

Jul 24, 2018 08:54 PM IST | Updated on: Jul 24, 2018 08:54 PM IST
اترپردیش :  شیعہ وقف بورڈ کی ملی بھگت سے وقف املاک میں خرد برد کئے جانے کا الزام

شیعہ وقف بورڈ کی ملی بھگت سے وقف املاک میں خرد برد کئے جانے کا الزام

میرٹھ :  وقف املاک پر ناجائز قبضوں کے زیادہ تر معاملوں میں وقف بورڈ کی سانٹھ گانٹھ اور کارروائی کو لے کر ضلع انتظامیہ کی لاپرواہی اجاگر ہوتی رہی ہے ۔ ایسا ہی ایک معاملہ میرٹھ کے عبد الله پور کا بھی ہے ، جہاں شیعہ وقف کی تقریباً 80 بگہا اراضی پر ناجائز قبضہ ہو چکا ہے ، لیکن معاملہ کی جانچ اور عرضی گزار کی تمام کوششوں کے باوجود ضلع انتظامیہ شیعہ وقف بورڈ کے ذمہ داران اور دیگر ملزمین کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہے ۔

میرٹھ کے عبد الله پور میں سیّد محمد وقف کا شیعہ وقف بورڈ میں سن 1918 سے اندراج ہے ۔ وقف کی تقریباً 80 بگہا اراضی پر ناجائز قبضے کا معاملہ سن 2014 میں سامنے آیا تھا ، جس کے بعد متعلقہ افراد نے کورٹ اور بورڈ سے اس معاملہ میں کارروائی کا مطالبہ کیا تھا ، لیکن پٹواری کی ملی بھگت سے اس معاملہ میں نہ صرف پیمائش کی غلط رپورٹ وقف بورڈ میں داخل کی گئی ، بلکہ بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے اس رپورٹ کو ہی صحیح قرار دیتے ہوئے خرد برد کی گئی املاک کو وقف پراپرٹی ماننے سے بھی انکار کر دیا ۔

حالانکہ غلط رپورٹ پیش کرنے کے معاملہ میں پٹواری کے خلاف 2016 میں پہلے ہی کاروائی کی جاچکی ہے ، لیکن دیگر ملزمین کے خلاف کارروائی کو لے کر ضلع اور پولیس انتظامیہ کی خاموشی کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے ۔ اس معاملہ میں گزشتہ چار ماہ سے ذمہ دار افسران کا ٹال مٹول کا رویہ جاری ہے ۔ ادھر ضلع مجسٹریٹ نے اب اس معاملے میں ایک مرتبہ بھر جانچ اور کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

Loading...

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com