جموں وکشمیر ’سیکس ٹارشن ‘پر پابندی لگانے کے لئے قانون نافذ کرنے والی پہلی ریاست

ریاست جموں وکشمیر ملک کی ایسی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں کام کی جگہوں پر خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی اور استحصال کو روکنے کے لئے باقاعدہ طور پر ایک قانون بنایا گیا ہے

Dec 19, 2018 10:51 AM IST | Updated on: Dec 19, 2018 10:51 AM IST
جموں وکشمیر ’سیکس ٹارشن ‘پر پابندی لگانے کے لئے قانون نافذ کرنے والی پہلی ریاست

علامتی تصویر

جموں وکشمیر ملک کی ایسی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں اعلی عہدوں پر فائز افسران کی طرف سے خواتین کا جنسی استحصال کیے جانے پر روک لگانے کے لیے  جموں وکشمیر کریمنل لاز بل 2018 اور پریونشن آف کرپشن بل 2018 کو منظوری دے دی گئی ہے۔ اس تعلق سے گزشتہ روز ریاستی انتظامی کونسل کی گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں اسے منظوری دی گئی۔

بِل کی رو سے 'ایویڈنس ایکٹ' کے سیکشن 53اے اور کریمنل پروسیجر کورٹ کے شیڈول کے حوالے سے سیکشن 154اور 161 میں ترامیم لائی جارہی ہیں تاکہ 'سیکس ٹارشن' کو آر پی سی کے تحت دیگر جرائم کے ہم پلہ لایا جائے۔

Loading...

اس اقدام سے ریاست جموں وکشمیر ملک کی ایسی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں کام کی جگہوں پر خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی اور استحصال کو روکنے کے لئے باقاعدہ طور پر ایک قانون بنایا گیا ہے۔

نیوز ایجنسی یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ

Loading...