کرینہ کپورخان کے ذریعہ کانگریس دے گی بی جے پی کی مادھوری دکشت کا جواب؟

کرینہ کپورکانام دو کانگریسی لیڈروں گڈوچوہان اورانس خان نے بھوپال پارلیمانی حلقہ کے لئے پیش کیا ہے۔

Jan 21, 2019 08:04 PM IST | Updated on: Jan 21, 2019 08:29 PM IST
کرینہ کپورخان کے ذریعہ کانگریس دے گی بی جے پی کی مادھوری دکشت کا جواب؟

کرینہ کپورکےنام کودوکانگریسی لیڈروں نے پیش کیا ہے۔

کیا کرینہ کپورخان اپنے سسرمنصورعلی خان کے نقش قدم پرچلتے ہوئے سیاست میں اترنے والی ہیں؟ کرینہ کا نام دوکانگریسی لیڈروں گڈوچوہان اورانس خان نے بھوپال پارلیمانی حلقہ کے لئے پیش کیا ہے۔ اس سیٹ سے پارٹی کو1984 سے جیت نہیں ملی ہے، لیکن ابھی تک کرینہ کپوریامدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ کی طرف سے اس سے متعلق کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

ویسے توپٹودی خاندان گروگرام کے پاس پٹودی علاقہ کے رہنے والے ہیں، لیکن بھوپال سے ان کا تعلق تین نسل پہلے سے ہے۔ اس وقت نواب افتخارعلی خان پٹودی کی شادی اس وقت کے بھوپال کے نواب کی بیٹی بیگم ساجدہ سلطان سے ہوئی تھی۔ بیگم ساجدہ بھوپال کے نواب حمید اللہ خان کی دوسری بیٹی تھیں۔

Loading...

جب راجیو گاندھی 1991 میں پھرسے اقتدارمیں واپسی کرنا چاہ ررہے تھے تب نواب پٹودی سیاست میں اترے۔ پٹودی کا سیاسی اکھاڑہ بھوپال ہی تھا۔ راجیو گاندھی کویقین تھا کہ پٹودی کوجیت ملے گی کیونکہ غریبوں کوزمین عطیہ میں دینے کی وجہ سے بھوپال کے نواب کافی مشہورتھے۔ ساجدہ سلطان کی موت کے بعد شہرکی مسجدوں، درگاہ، قبرستان کی جانشینی پٹودی کے ذمہ تھی۔ اس جائیداد کی قیمت موجودہ لحاظ سے تقریباً ایک ہزارکروڑہے، لیکن 2011 میں پٹودی کی موت کے بعد سیف کی بہن صباعلی خان کوان کی جائیداد کی جانشینی ملی۔ صباجویلری ڈیزائنرہیں۔ ابھی تک صبا کئی وقف جائیداد کی جانشین ہیں۔

نواب پٹودی کو 1991 کی انتخابی تشہیرکے دوران محسوس ہوا کہ پورا بھوپال شہرمذہبی بنیاد پرمنقسم ہے۔ نواب پٹودی ٹوپی پہن کراپنے آپ کو ایک شدت پسند مسلم کے طورپرنہیں دکھانا چاہتے تھے۔ شرمیلا ٹیگوراورپٹودی کی تقاریب میں کافی بھیڑ جمع ہوتی تھی اورالیکشن کے کچھ دن پہلے راجیو گاندھی خود تشہیرکے لئے آئے، لیکن کانگریس کے کچھ مقامی لیڈروں نے پارٹی کے امیدوارنواب پٹودی کے خلاف سازش کی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگروہ جیت گئے توآئندہ 20 سالوں تک ان لوگوں کو موقع نہیں ملنا ہے۔

نواب پٹودی کو الیکشن لڑانے کے پیچھے راجیو گاندھی کی بھی سوچی سمجھی حکمت عملی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ اگرنواب پٹودی جیت جاتے ہیں توبھوپال میں ارجن سنگھ، شیاما چرن شکلا، مادھوراو سندھیا جیسے رہنماوں کے درمیان اپنا ایک قابل اعتبارشخص ہوگا۔ یہ ٹائیگر پٹودی کی دوسری انتخابی شکست تھی۔ جب اندرا گاندھی نے 1970 میں پرویپرس کو ختم کیا تھا توپٹودی کو اس نوجوان نواب کو صرف 48000 روپئے کا ہی نقصان ہوا تھا، لیکن انہوں نےاندرا گاندھی کے خلاف الیکشن لڑنے کا پلان بنایا تھا۔ 1971 میں انہوں نے گڑگاوں سے الیکشن لڑا۔ پرویپرس دراصل آزاد ہندوستان میں ملنے اوراپنے تمام حقوق کو چھوڑنے کے عوض حکومت کے ذریعہ راجاوں کودی جانے والی رقم تھی۔ اس وقت 565 راجاوں کوتقریباً 100 کروڑ روپئے گئے تھے۔

وشال ہریانہ پارٹی کے امیدوارپٹودی کوپانچ فیصد سے بھی کم ووٹ ملے۔ حالانکہ کانگریس پارٹی کے اندربھی تمام لوگوں کوپرویپرس کوواپس لیا جانا پسند نہیں آیا۔ اندرا گاندھی حکومت میں اس وقت وزیرمالیات مرارجی دیسائی خود اس کے حق میں نہیں تھے کیونکہ انہیں یہ وعدہ خلافی اورغیراخلاقی محسوس ہورہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وعدہ توڑنے جیسا ہے، لیکن اندرا گاندھی کا کہنا تھا کہ بغیرکمائے کچھ لوگوں کواتنی عالیشان زندگی گزارنا ٹھیک نہیں ہے۔

نواب پٹودی گرچہ 1971 میں کانگریس کے خلاف الیکشن لڑے اورہارگئے پھربھی اس کی وجہ سے نہرو- گاندھی فیملی سے ان کی قربت کم نہیں ہوئی، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اب راہل گاندھی کرینہ کپورکوالیکشن لڑوانے کے لئے سیف علی خان، شرمیلا ٹیگوراور کپورخاندان کوراضی کریں گے۔

حالانکہ 2019 کے الیکشن میں کئی بڑی ہستیوں کے لوک سبھا الیکشن لڑنے کا امکان ہے۔ مانا جارہا ہے کہ بی جے پی اس لوک سبھا الیکشن میں مادھوری دکشت، گوتم گمبھیر، سنی دیول، اجے دیوگن، کپل دیو، اکشے کمارسمیت کئی اہم لوگوں کو میدان میں اتارنے والی ہے۔ توکیا کانگریس کرینہ کپورخان کومیدان میں اتارکراس کا جواب دے گی۔

رشید قدوائی کی رپورٹ

Loading...