وویک تیواری قتل معاملہ: یوپی پولیس کے دعووں کی کھلی پول، سامنے آیا سی سی ٹی وی فوٹیج

لکھنئو کے وویک تیواری قتل معاملہ میں پیر کے روز سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آیا ہے، جس نے یوپی پولیس کے دعووں کی پول کھل کر رکھ دی ہے۔

Oct 01, 2018 11:57 AM IST | Updated on: Oct 01, 2018 12:31 PM IST
وویک تیواری قتل معاملہ: یوپی پولیس کے دعووں کی کھلی پول، سامنے آیا سی سی ٹی وی فوٹیج

لکھنئو انکاونٹر کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لی گئی تصویر

لکھنئو کے وویک تیواری قتل معاملہ میں پیر کے روز سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آیا ہے، جس نے یوپی پولیس کے دعووں کی پول کھل کر رکھ دی ہے۔ حادثہ کے بعد ملزم پولیس اہلکار نے بتایا تھا کہ وویک تیواری کی گاڑی کھڑی تھی، تاہم تصاویر میں صاف ہے کہ گاڑی چلتی پائی گئی۔ ملزم پرشانت چودھری نے دعوی کیا تھا کہ وویک نے اس کے اوپر تین بار گاڑی چڑھانے کی کوشش کی، لیکن تصاویر بتاتی ہیں کہ گاڑی پہلے چل رہی تھی۔ یعنی موقعہ پر مقتول وویک کے ساتھ موجود اس کی خاتون دوست کا دعوی صحیح پایا گیا ہے۔

نجی کمپنی میں کام کرنے والی ثنا نے واقعہ کے بعد بتایا تھا کہ وہ اپنے دوست وویک تیواری کے ساتھ کار سے جا رہی تھی۔ تبھی سامنے سے دو سفید اپاچے میں سوار پولیس اہلکار آئے تھے۔ کار کو روکنے کے لئے اشارہ کیا جس پر وویک نے کار روک دی۔ اتنے میں ہی ایک سپاہی نے اپنے سرکاری پستول سے وویک کو گولی مار دی۔ گولی لگنے سے وہ گھبرایا اور گاڑی بڑھا دی۔

الزام ہے کہ پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو نوجوان نے  کار چڑھانے کی کوشش کی۔ اس پر سپاہی پرشانت چودھری نے فائرنگ کر دی۔ گولی سیدھے جاکر وویک کے سر میں لگی۔ کچھ دوری پر گاڑی ایک دیوار سے ٹکرا کر رک گئی۔ فوری طور پر وویک کو لوہیا اسپتال لے جایا گیا جہاں کچھ دیر بعد اس نے دم توڑ دیا۔ پولیس نے دونوں ملزم سپاہیوں کے خلاف قتل کا کیس درج کر کے انہیں جیل بھیج دیا۔

Loading...

Loading...