میرٹھ میں پیپر آوٹ ہونے سے ٹیوب ویل آپیٹروں کے امتحانات منسوخ ، 11 گرفتار

لکھنؤ کے چار باغ اسٹیشن کے باہر امتحان منسوخ ہونے سے ناراض امیدواروں نے سڑک پر جم کرکے احتجاج کیا۔

Sep 02, 2018 08:35 PM IST | Updated on: Sep 02, 2018 08:36 PM IST
میرٹھ میں پیپر آوٹ ہونے سے ٹیوب ویل آپیٹروں کے امتحانات منسوخ ، 11 گرفتار

میرٹھ میں پیپر آوٹ ہونے سے ٹیوب ویل آپیٹروں کے امتحانات منسوخ، 11 گرفتار

اترپردیش سبورڈینیٹ سروس سلیکشن کمیشن (یو پی ایس ایس ایس سی) نےاتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ٹیوب ویل آپریٹروں کے 3210 اسامیوں کے لئے اتوار کے روز ہونے والے امتحان کو پرچہ آوٹ ہونے کے بعد منسوخ کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے اتوار کو یہاں بتایا کہ سلیکشن کمیشن نے پیپر آوٹ ہونے سے اتوار کے روز ہونے والے امتحان کو منسوخ کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرٹھ میں پیپر آوٹ ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد سنیچر کی شام کو امتحان کو منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ پیپر آوٹ ہونے کے معاملے میں اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف ) کی ٹیم نے 11 افراد کو میرٹھ سے گرفتار کیا ہے۔اس گینگ کا سرغنہ امروہہ کے سرکاری اسکول کا ایک ٹیچر ہے۔امتحان منسوخ ہونے سے امیدواروں نے جم کر ہنگامہ کیا ۔ لکھنؤ کے چار باغ اسٹیشن کے باہر امتحان منسوخ ہونے سے ناراض امیدواروں نے سڑک پر جم کرکے احتجاج کیا۔ حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرنے کے ساتھ ہی ان سبھی امیدواروں نے کمیشن کے خلاف بھی اپنا غصہ ظاہر کیا جس کے بعد حفاظتی دستوں کو تعینات کیا گیا ۔

ایس ٹی ایف کے سینئر پولیس افسر ابھیشیک سنگھ نے یہاں بتایا کہ یو پی ایس ایس ایس سی کی طرف سے منعقد ٹیوب ویل آپریٹروں کے امتحان کا پیپر آوٹ ہونے کی خبر ملی تھی۔ اس کے لئے پولیس سپرنٹنڈنٹ برجیش کمار سنگھ کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ۔اے ٹی ایف کو خبر ملی تھی کہ امیدواروں سے موٹی رقم لے کر یو پی ایس ایس ایس سی کے ذریعہ منعقد ٹیوب ویل آپریٹروں کے امتحان کا پرچہ آوٹ کرنے میں کئی افراد سرگرم ہیں ۔

مسٹر سنگھ نے بتایا کہ ہفتے کے روز گروہ کے سرگرم افراد کو پکڑنے کے لئے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کینٹ اسٹیشن کے قریب ٹیم نے گھیرا ڈالا۔جہاں اے ٹی ایف نے 11 ملزمین کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمین میں سے ایک سچن نامی ایک شخص امروہہ کے سرکاری اسکول کا ٹیچر ہے ، جو گزشتہ دو سال سے منعقد ہونے والے امتحان میں پرچہ آوٹ کراکر امیدواروں کا داخلہ کراتا تھا۔ ملزم سچن نے بتایا کہ اتوار کو منعقد ہونے والے ٹیوب ویل امتحان میں ہر امیدوار سے بھرتی سے پہلے تین تین لاکھ روپيے اور بھرتی کے بعد تین سے چار لاکھ روپئے لیتا تھا۔

Loading...

Loading...