اردو شاعری کے ذریعہ بالی ووڈ میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں اے ایم طوراز

میرٹھ : اردو ادب میں صنف شاعری محض کتابوں کی زینت نہیں بلکہ فلموں میں نغموں اور مشاعروں کی محفلوں کے ذریعہ بھی پروان چڑھ رہی ہے اور طوراز جیسے نوجوان شاعر اس کی مثال اور مستقبل ہیں ۔

Jun 07, 2016 10:49 PM IST | Updated on: Jun 07, 2016 10:50 PM IST
اردو شاعری کے ذریعہ بالی ووڈ میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں اے ایم طوراز

میرٹھ : اردو ادب میں صنف شاعری محض کتابوں کی زینت نہیں بلکہ فلموں میں نغموں اور مشاعروں کی محفلوں کے ذریعہ بھی پروان چڑھ رہی ہے اور طوراز جیسے نوجوان شاعر اس کی مثال اور مستقبل ہیں ۔ بالی ووڈ فلموں میں اسکرپٹ ڈائیلوگ اور نغموں کا تصور اردو کے بغیر نہیں کیا جا سکتا ۔ پاپ راک اور دیگر مختلف گانوں کے باوجود نغمہ نویسی اور اسکرپٹ رائٹنگ میں اردو کی اہمیت آج بھی کم نہیں ہوئی ہے ۔ بالی ووڈ فلموں میں آج بھی اچھے گانوں کا دور اردو شاعری سے ہی زندہ ہے اور اردو زبان نے اسے ہر دور میں زندہ رکھا ہے۔ یہ کہنا ہے نوجوان شاعر اے ایم طوراز کا جو مظفر نگر جیسے چھوٹے شہر سے ممبئی پہنچ کر نہ صرف ایک نغمہ نگار کی حیثیت سے اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے ہیں ، بلکہ مشاعروں میں بھی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں ۔

مظفر نگر کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے طوراز نے میرٹھ سے سن 2002 میں کمسنی میں ہی ممبئی کا سفر طے کیاتھا ۔ ابتدا میں شاعری میں طبع آزمائی کے بعد طوراز کو احساس ہوا کی اپنی ایک الگ پہچان قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کی الگ انداز کی شاعری کی جائے ۔ ابتدائی جدوجہد کے بعد طوراز نے نہ صرف اپنی تحریروں سے لوگوں کو متاثر کیا ،بلکہ فلموں میں کام بھی حاصل کیا۔ اردو کے اس نوجوان شاعر کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کی گزشتہ کچھ وقت میں ہی طوراز نے بالی ووڈ کی کئی ہٹ فلموں کے لئے نغمیں لکھے ہیں اور آگے کئی اور فلمی پروجیکٹس میں کام کر رہے ہیں ۔ باجی راؤ مستانی، وزیر، سربجیت، جیل، گزارش جیسی بڑی بڑی فلموں میں موجود طوراز کے لکھے گانوں میں اردو شاعری کی روح نظر آتی ہے۔

فلم نگری میں کامیابی حاصل کرنے کے مقصد سے چھوٹے شہروں سے نکل کر ممبئی جیسے شہر کا سفر طے کرنے والوں کے لئے راہیں آسان نہیں ہوتی ہیں۔ اردو شاعری کے ساتھ فلمی دنیا میں اپنا مقام حاصل کرنا طوراز کے لئے بھی آسان نہیں تھا۔ لیکن ہنر کے ساتھ محنت اور ملنساری کے مزاج سے طوراز نے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے کے ساتھ بالی ووڈ میں اپنی شناخت بائی اور کام حاصل کیا ۔ نغمہ نگاری کے ساتھ ساتھ طوراز اب فلموں کے لئے اسکرپٹ اور ڈائیلاگ بھی لکھ رہے ہیں ۔

طوراز کا کہنا ہے کہ ایک شاعر کو اپنے اندر پوشیدہ اچھی شاعری کی روح کی زندہ رکھنے کے لئے اردو کی ادبی محفلوں اور شعری نشستوں میں شرکت کرتے رہنا ضروری ہے۔ فلموں کی کہانی کے مطابق نغموں کی ضرورت پورا کرنے والا شاعر مشاعروں اور محفلوں میں اپنی شاعری کے ہنراور جذبات کو پیش کرنے کا سب سے بہتر ذریعہ مانتا ہے۔

Loading...

Loading...