ایک منٹ کے لئے وزیر کو روک کیا دیا ، پی ایس او نے گارڈ کو دوڑا دوڑا کر پیٹا

مرکزی وزیر مہیش شرما کی کار گروپ ہاؤسنگ سوسائٹی کے گیٹ پر دو منٹ کیلئے کیا رکی کہ وزیر موصوف کے ساتھ چل رہے سکیورٹی اہلکاروں کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھ گیا۔

Aug 19, 2016 11:48 AM IST | Updated on: Aug 19, 2016 11:48 AM IST
ایک منٹ کے لئے وزیر کو روک کیا دیا ، پی ایس او نے گارڈ کو دوڑا دوڑا کر پیٹا

غازی آباد : مرکزی وزیر مہیش شرما کی کار گروپ ہاؤسنگ سوسائٹی کے گیٹ پر دو منٹ کیلئے کیا رکی کہ وزیر موصوف کے ساتھ چل رہے سکیورٹی اہلکاروں کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھ گیا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے تین گارڈوں کو دوڑا دوڑا کر پیٹا۔ یہ پورا واقعہ سوسائٹی کے سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہو گیا ۔ ملزم سیکورٹی اہلکار نیلی بتی لگی اسكارپيو میں تھے ، جس پر پولیس لکھا ہوا تھا۔ ریزیڈنٹس نے پولیس میں اس کی شکایت کی ہے۔

جن گارڈوں کی پٹائی کی گئی اور ان کے ساتھ گالی گلوچ کیاگیا ، ان کی غلطی بس اتنی تھی کہ وہ اپنی ڈیوٹی مستعدی سے کر رہے تھے۔ انہیں گیٹ پر موجود تین سکیورٹی اہلکاروں نے جم کر پیٹا اور گالی دی۔ صورتحال یہ تھی کہ انہیں دوڑا دوڑا کر پیٹا گیا۔ یہ پورا واقعہ غازی آباد کے آشیانہ گرین سوسائٹی میں پیش آیا ۔

متاثرہ گارڈوں کا کہنا ہے کہ وہ تو صرف اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے۔ ان کو کسی غلطی کے بغیر مارا پیٹا گیا۔ متاثرہ سیکورٹی سپروائزر اجے یادو نے بتایا کہ صاحب کو 74 گراؤنڈ پر جانا تھا، ان کے ساتھ پیچھے والی گاڑی سے دو لوگ آئے اور گالیاں دے کردوڑا دوڑا کر مارا۔ انہوں نے کہا کہ فلیٹ نمبر پوچھنے کے لئے مشکل سے انہیں دو منٹ ہی روکا گیا تھا ۔ ایک لال بتی لگی گاڑی تھی اور تین نیلی بتی لگی والی گاڑیاں تھیں۔ جاتے وقت انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ ہم ان کی پولیس میں شکایت کریں گے۔

سوسائٹی کی آرڈبليواے نے اندراپورم تھانے میں اس کی تحریر شکایت کی ہے۔ پولیس اب جانچ کے بعد کارروائی کی بات کہہ رہی ہے۔ غازی آباد کے ڈی ایس پی اتل یادو نے کہا کہ سوسائٹی کے سکریٹری پنکج نے شکایت کی ہے،جس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔

Loading...

وہیں مہیش شرما نے اس پورے تنازع پر صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہاں میں آشیانہ سوسائٹی میں اپنی بہن سے ملنے گیا تھا۔ باہر گارڈوں نے مجھے انتظار کرنے کیلئے کہا اور بعد میں اندر جانے کی اجازت دیدی۔ میری غیر موجودگی میں میرے پرسنل سیکورٹی اہلکارمار پیٹ کرنے لگے۔ میں نے واپس آتے ہی معافی مانگ لی۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگ اس معاملہ کو سیاسی رنگ دینا چاہتے تھے۔ بات کچھ بھی نہیں ہے ، لیکن اس کو ایشو بنایا جا رہا ہے۔ پولیس ایکشن لے سکتی ہے۔

Loading...