جونپور میں شرم جیوی بم دھماکہ کے قصوروار عبید الرحمان کو پھانسی کی سزا

اترپردیش میں جونپور کی ایک عدالت نے تقریبا 11 سال پہلے شرم جیوی ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے ایک اور ملزم عبیدالرحمان عرف بابو بھائی کو آج پھانسی اور 10 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

Aug 31, 2016 06:19 PM IST | Updated on: Aug 31, 2016 06:20 PM IST
جونپور میں شرم جیوی بم دھماکہ کے قصوروار عبید الرحمان کو پھانسی کی سزا

فائل فوٹو

جونپور : اترپردیش میں جونپور کی ایک عدالت نے تقریبا 11 سال پہلے شرم جیوی ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے ایک اور ملزم عبیدالرحمان عرف بابو بھائی کو آج پھانسی اور 10 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ایڈیشنل ضلع و سیشن جج (اول ) بدھی رام یادو کی عدالت میں عبیدالرحمان عرف بابو بھائی کو سخت سیکورٹی کے درمیان پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم بابوبھائي کوشرم جیوی ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کا مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی اور 10 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

شرم جیوی ایکسپریس ٹرین میں ہونے والے بم دھماکے کی 28 جولائی کو 11 ویں برسی تھی اور عدالت میں اس معاملے کی سماعت اب بھی جاری ہے۔ عبید الرحمان عرف بابو بھائی کے معاملے کل 56 گواہ پیش ہوئے ہیں۔ ملزم بابو بھائی کو نو مئی 2006 کو بنگال کے مرشدآباد جیل سے وارنٹ بی کے ذریعے جونپور لایا گیا تھا۔ تفتیش میں یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ بابو بھائی لشکر طیبہ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لئے بھی کام کرتا تھا۔ 28 جولائی 2005 کو پٹنہ سے چل کر نئی دہلی جانے والی شرم جیوی ایکسپریس ٹرین کے جنرل ڈبے میں سفر کرنے والے لوگوں کو یہ احساس نہیں تھا کہ یہ ان کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔

اتر پردیش کے جون پور ضلع کے هرپال گنج (سگرامئو) اور كوري پور (سلطان پور) ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان ہرپور ریلوے کراسنگ پر شرم جیوی ایکسپریس میں ہونے والے شدید بم دھماکے میں 14 افراد ہلاک اور کم از کم 90 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس بم دھماکے میں سیف فیصل، كنال، سدھیر کمار، پرم شیلا، ونود، روی داس، کمال الدین، سبھاش ٹھاکر، کماری کویتا، سبودھ بڑھئی، اروند سنگھ، سنتوش ، دگمبر چودھری،شفیق عرف ڈبو اور امرناتھ چوبے کی جانیں گئی تھیں۔

انکوائری میں بم دھماکے کے پیچھے دہشت گرد عبید الرحمان عرف بابوبھائي (بنگلہ دیش ) نفیقل بشواش (مرشيداباد)، سوهاگ خان عرف ہلال عرف هلال الدين (بنگلہ دیش)، محمدعالمگیر عرف رونی (بنگلہ دیش)، ڈاکٹر سعید اور غلام رازداني کا ہاتھ ہونے کے بارے میں پتہ چلا ۔ اس میں سے ڈاکٹر سعید کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے جبکہ ایک ملزم غلام رازدانی عرف یحیی کو تصادم میں مارا جا چکا ہے۔اس واقعہ کو انجام دینے کا منصوبہ راج شاہی بنگلہ دیش میں بنایا گیا تھا۔

Loading...

اس واقعہ میں ملوث ہونے والے دیگر دہشت گردوں میں سے محمد شریف اب فرار چل رہا ہے۔ اس کی گرفتاری کے لئے انٹرپول کی مدد لی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے پہلے تین ملزم بالترتیب عبید الرحمان ، هلال الدين اور نفیقل بشواش کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے اور تینوں کو جونپور جیل میں بند کیا گیا۔ سال 2007 میں دہلی میں محمد عالمگیر عرف رونی کو گرفتار کیا اور اسے تہاڑ جیل میں رکھا گیا تھا۔ وہیں سے ہر پیشی پر جونپور لایا جاتا تھا۔ رونی کو گزشتہ 30 جولائی کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اس وقت رونی سنٹرل جیل الہ آباد کے نینی میں بند ہے ۔اس معاملے کی سماعت ضلع کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اول ) بدھی رام یادو ہیں۔

اس معاملے میں دو ملزم نفیقل بشواش اور هلال الدين کو ایک دوسرے مقدمے کے سلسلے میں حیدرآباد بھیجا گیا ہے۔ ان کے معاملے میں عدالت نے 20 ستمبر کو سماعت کی تاریخ مقرر کی ہے۔ دونوں کو جونپور لانے کیلئے وارنٹ بی حیدرآباد بھیجا گیا ہے۔

Loading...