مسلم خواتین صحافی اسکارف لگا کرکریں اینکرنگ: مفتی احمد گوڑ

مفتی احمد کے مطابق ٹی وی پراینکرنگ کرنے کے لئےشریعت نے جوبہترطریقہ بتایا ہے وہ پردہ ہے، لیکن شریعت کی باتوں کوماننا اورنہیں ماننا آپ کی مرضی پرمنحصر ہے۔

Dec 21, 2018 07:04 PM IST | Updated on: Dec 21, 2018 07:04 PM IST
مسلم خواتین صحافی اسکارف لگا کرکریں اینکرنگ: مفتی احمد گوڑ

مفتی احمد گوڑ: فائل فوٹو

دارالعلوم کے فتوے کے بعد اب دیوبند کے ایک مفتی نے مسلم خواتین سے متعلق ایک بیان دیا ہے۔ مفتی احمد گوڑنے کہا ہے کہ ٹی وی پرجوبھی مسلم خواتین اینکرنگ یا رپورٹنگ کررہی ہیں، ان سبھی کواسکارف باندھ کرکام کرنا چاہئے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس بات کا بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ بال بالکل کھلے ہوئے نہ ہوں۔ ان کی مانیں توخواتین صحافیوں کوبرقع کا استعمال کرنا چاہئے۔ اگردیکھا جائے تو یہ بیان اسلامی لحاظ سے بالکل درست ہے۔ تاہم اس پرکسی کے لئے کوئی زیادتی نہیں کی جاسکتی۔

مفتی احمد گوڑنےکہا ہے کہ کوئی بھی روزگارجوجائزاورحلال ہے، ان سب کو شریعت نے اجازت دی ہے۔ مفتی احمد کے مطابق ٹی وی پراینکرنگ کرنے کے لئےشریعت نے جوبہترطریقہ بتایا ہے وہ پردہ ہے، لیکن شریعت کی باتوں کوماننا اورنہیں ماننا آپ کی مرضی پرمنحصر ہے۔ گوڑنے کہا کہ پردے کو جوصحیح طریقہ ہے، وہ برقع ہے۔ برقع پردے کا سب سے اول درجہ ہے، کیونکہ برقہ میں چہرے سے لے کربدن تک پوشیدہ ہوتا ہے۔

Loading...

واضح رہے کہ حال ہی میں سہارنپورواقع عالمی اسلامی ادارہ دارالعلوم نے ایک فتویٰ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شادی یا دیگربڑے تقاریب میں اجتماعی طورپرمردوں اورعورتوں کے کھانا ساتھ کھانا حرام ہے۔ ساتھ ہی کھڑے ہوکرکھانے کوبھی غیردرست قراردیا تھا۔

Loading...