الہ آباد میں اس مرتبہ بھی نہیں نکلے گا یوم عاشورہ کا تاریخی جلوس

الہ آباد کا چھ سو برس قدیم یوم عاشورہ کا تاریخی جلوس اس مرتبہ بھی نہیں نکالا جائے گا ۔ دشہرا اور محرم ایک ہی تاریخ میں پڑنے کی وجہ سے مسلمانوں نے محرم کا جلوس نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

Oct 05, 2016 11:05 PM IST | Updated on: Oct 05, 2016 11:05 PM IST
الہ آباد میں اس مرتبہ بھی نہیں نکلے گا یوم عاشورہ کا تاریخی جلوس

الہ آباد : الہ آباد کا چھ سو برس قدیم یوم عاشورہ کا تاریخی جلوس اس مرتبہ بھی نہیں نکالا جائے گا ۔ دشہرا اور محرم ایک ہی تاریخ میں پڑنے کی وجہ سے مسلمانوں نے محرم کا جلوس نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پچھلے کئی دنوں سے مقامی انتظامیہ محرم کمیٹی پر دبا ؤ ڈال رہی تھی کہ وہ امن و قانون کی صورت حال کے پیش نظر یوم عاشورہ کے جلوس کو ملتوی کر دے ۔آخرکار مسلمانوں پر پولیس انتظامیہ کا دباؤ کام آگیا اور گزشتہ سال کی طرح سال رواں بھی محرم کمیٹیوں نے الہ آباد کا اریخی بڑا تعزیہ کا جلوس نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ۔ پولیس انتظامیہ کے ساتھ محرم کمیٹی کی طویل میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی دشہرا اور محرم کے جلوسوں کی تاریخ ٹکرانے کے بعد مقامی انتظامیہ نے یوم عاشورہ کا جلوس نہ نکالنے کے لئے مسلمانوں پر دباؤ ڈالا تھا ۔ محرم کا جلوس نہ نکالنے کے فیصلے کے بعد دشہرے کا پہلا جلوس نہایت جوش و خروش کا ساتھ نکالا گیا ۔ نوراتر کے پہلے جلوس میں شاندار جھانکیاں نظر آئیں ۔ دوسری جانب محرم کمیٹیوں پر جلوس نہ نکالنے کا دباؤ بنانے والی تنظیموں اور اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے اس فیصلے سے قومی ایکتا کی مثال قائم ہوگی ۔

یوم عاشورہ کا جلوس نہ نکالنے کے فیصلہ کو الہ آباد کی گنگا جمنی تہذیب سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ تاہم مسلمانوں کا سوال ہے کہ امن و قانون کو بنائے رکھنے کی ذمہ داری انتظامیہ کی ہوتی ہے ، ایسے میں یک طرفہ طور سے صرف یوم عاشورہ کے جلوس کو رکوا کر قومی اتحاد کس طرح سے قائم کیا جا سکتا ہے ؟۔

Loading...

Loading...