کانگریس اور اروند کیجریوال سیاسی نفاق کا پاسورڈ بن گئے ہیں : مختار عباس نقوی

مسٹر نقوی نے رامپور میں رن فار یونٹی پروگرام کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور اروند کیجریوال کا سیاسی پروپگنڈہ ملک کی سیکورٹی فورسز کے حوصلے کو کمزور کرنے کی سیاسی سازش ہے

Nov 04, 2016 02:18 PM IST | Updated on: Nov 04, 2016 02:18 PM IST
کانگریس اور اروند کیجریوال سیاسی نفاق کا پاسورڈ بن گئے ہیں : مختار عباس نقوی

رام پور: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی کے سینئرلیڈر مختار عباس نقوی نے آج یہاں کہا کہ کانگریس اور کیجریوال،سیاسی نفاق کا پاس ورڈ بن گئے ہیں۔ مسٹر نقوی نے رامپور میں رن فار یونٹی پروگرام کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور اروند کیجریوال کا سیاسی پروپگنڈہ ملک کی سیکورٹی فورسز کے حوصلے کو کمزور کرنے کی سیاسی سازش ہے۔ کبھی سرجیکل اسٹرائک پرسوال ، کبھی سیمی کے مبینہ انتہاپسندوں کی موت پر ہنگامہ تو کبھی ون رینک ون پنشن کے معاملے پر گمراہ کرنے والی سیاست ہو رہی ہے۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ ایک طرف جہاں سرحد پر ہمارے بہادر جوان حب الوطنی کے جذبہ کے ساتھ ملک کے دشمنوں اور دہشت گردوں کو منھ توڑ جواب دے رہے ہیں، وہیں کچھ سیاسی جماعتیں ہر روز کچھ نہ کچھ ایسی حرکتیں کر رہی ہیں جس سے ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو اور ہمارے جوانوں کے حوصلے پر منفی اثر پڑے. انہوں نے کہا کہ آج دہشت گرد اور دہشت گردوں کے آقا پوری دنیا میں الگ تھلگ پڑ چکے ہیں، ایک دو ممالک کو چھوڑ کر دنیا کا کوئی بھی ملک اس طرح کی شیطانی قوتوں کے ساتھ نہیں کھڑا ہے۔ یہ طاقتیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں. امن اور انسانیت کی دشمن ان طاقتوں کے شیطانی منصوبوں کویکے بعد دیگرے تباہ کیا جا رہا ہے۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ جب پورا ملک متحد ہو کر ہماری فوج اورسیکورٹی فورسز کے جذبہ کو سلام کر رہا ہو تب ایسے میں کچھ سیاسی پارٹیاں ان کی ایمانداری پر سوال کھڑے کرکے ملک میں تذبذب کی سیاست کر رہی ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ اپنے سیاسی مفادات کے لئے قومی مفادات کو ترجیح دینے والے لوگ شاید یہ بھی بھول گئے ہیں کہ ان کی ایسی خودغرضانہ سوچ ان کے بچے-كھچے سیاسی وجود کو بھی ختم کر دے گی۔

مسٹر نقوی نے رن فار یونٹی کے دوران مردآہن سردار بلبھ بھائی پٹیل کو یاد کیا اور ساتھ ہی بڑی تعداد میں موجود سماج کے ہر طبقے کے لوگوں کو یوم قومی اتحاد کا عہدبھی کرایا۔ رن فار یونٹی امبیڈکر پارک سے شروع ہو کر گاندھی سمادھی پر ختم ہوا،جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ملک کے اتحاد، سالمیت اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے خود کو وقف کرنے کا عہد کیا ۔ اس موقع پر لوگوں نے ملک کی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا تعاون دینے کا بھی عہد کیا۔

Loading...

Loading...