شیوپال کی بغاوت سے متحرک ہوئے ملائم سنگھ، مسلسل دوسرے دن پہنچے سماجوادی پارٹی کے دفتر

اکھلیش یادو کی عدم موجودگی میں ملائم سنگھ دفتر پہنچے، لیکن کوئی سیاسی بات نہیں کی۔

Aug 31, 2018 05:42 PM IST | Updated on: Aug 31, 2018 05:53 PM IST
شیوپال کی بغاوت سے متحرک ہوئے ملائم سنگھ، مسلسل دوسرے دن پہنچے سماجوادی پارٹی کے دفتر

ملائم سنگھ یادو: فائل فوٹو

بھائی شیوپال یادو کے سماجوادی سیکولرمورچہ بنانے اورلوک سبھا کی تمام 80 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کے اعلان کے بعد جمعہ کو لکھنو واقع سماجوادی پارٹی دفترپرملائم سنگھ یادو پہنچے۔ ملائم سنگھ نے پارٹی دفترپرکارکنان سے ملاقات کی۔

غورطلب ہے کہ یہ دوسرا دن ہے جب ملائم سنگھ سماجوادی پارٹی کے دفتر پہنچے ہیں۔ اس سے قبل جمعرات کوراجیہ سبھا کے سابق ممبرپارلیمنٹ درشن سنگھ کے انتقال پر انہیں خراج عقیدت دینے پہنچے تھے۔ انہوں نے سماجوادی پارٹی کے آفس میں تقریباً ایک گھنٹہ وقت گزارا۔

Loading...

حالانکہ انہوں نے سیاست پر بات کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا تھا، لیکن ان کے دفتر پہنچنے کے سیاسی مطلب نکالے جانے لگے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی دن سماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادو وہاں موجود نہیں تھے۔

اکھلیش یادو کا پارٹی پراجارہ داری ہونے کے بعد طویل وقت سے ملائم سنگھ سماجوادی پارٹی کے دفترنہیں آرہے تھے، لیکن سماجوادی کنبے کے اندررسہ کشی ایک بارپھرسامنے آنے کے بعد ملائم سنگھ  یادو کا سماجوادی دفترپہنچنے کے بعد قیاس آرائی کا بازارگرم ہے۔

اس سے قبل باغپت پہنچے شیوپال یادونے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ لوک سبھا الیکشن میں سماجوادی سیکولرمورچہ اترپردیش کی سبھی 80 لوک سبھا سیٹوں پرالیکشن لڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی میں درکنارکئے گئے لیڈروں اورہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کرالیکشن لڑیں گے۔

اب سماجوادی پارٹی کے سبھی لیڈروں کی نظر ملائم سنگھ پر مرکوز ہے۔ سماجوادی پارٹی کے اس سیاسی مہابھارت میں ملائم سنگھ یادو کا کیا رخ ہوتا ہے، اس کا سبھی کو بے صبری سے انتظار ہے۔ ابھی تک ملائم سنگھ نے شیوپال کے سیکولر مورچہ بنائے جانے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

حالانکہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں سماجوادی پارٹی کے کئی عظیم لیڈران سے مل چکے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رام گووند چودھری، اعظم خان، سنجے سیٹھ اور سنیل سنگھ ساجن سمیت کئی دیگرعظیم لیڈر ان سے ملے اورمنانےکی کوشش ہوئی۔

(ان پٹ: نریندر یادو)

Loading...