اترپردیش میں مسلم سیاسی پارٹیاں زوال کا شکار، آپسی انتشاراورقیادت کے فقدان نے عوام کو کیا مایوس

ماضی میں مسلم سیاست میں اہم رول ادا کرنے والی ریاست اترپردیش میں مسلم سیاسی پارٹیاں زوال کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں ۔

Apr 26, 2018 10:06 PM IST | Updated on: Apr 26, 2018 10:06 PM IST
اترپردیش میں مسلم سیاسی پارٹیاں زوال کا شکار، آپسی انتشاراورقیادت کے فقدان نے عوام کو کیا مایوس

الہ آباد : ماضی میں مسلم سیاست میں اہم رول ادا کرنے والی ریاست اترپردیش میں مسلم سیاسی پارٹیاں زوال کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں ۔مسلم سیاسی پارٹیوں کے آپسی انتشار اور موثر قیادت کے فقدان نے ریاست میں مسلم سیاست کو بے وزن کرکے رکھ دیا ہے ۔حالت یہ ہے کہ بڑی سیکو لر پارٹیاں بھی مسلم سیاسی پارٹیوں کو اب خا طر میں نہیں لا رہی ہیں ۔

اترپردیش میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 20 فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔یہ وہ تعداد ہے جو کسی بھی سیاسی پارٹی کو اقتدار میں لانے اور اقتدار سے بے دخل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔لیکن یو پی میں ان دنوں مسلم سیاست بے وزن ہو کر رہ گئی ہے ۔یو پی کی قدیم سیاسی پارٹی مسلم مجلس کا کہنا ہے کہ سیکولر پارٹیوں نے مسلم سیاست اور قیادت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا کام کیا ہے ۔

کسی زمانے میں کانگریس ،سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی مسلم سیاسی پارٹیوں کو کافی اہمیت دیتی تھیں ۔ان پارٹیاں کا مانناتھا کہ مسلم سیاسی پارٹیوں کے پا س مسلم عوام کا ووٹ ہے ۔لیکن آج یہ تاثر تقریباً ختم سا ہو گیا ہے ۔سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس صورت حال کے لئے خود مسلم سیاسی پارٹیاں ذمہ دار ہیں۔

اترپردیش میں مسلم مجلس ،مسلم لیگ ،نیشنل لیگ اور پیس پارٹی کا اب صرف نام رہ گیا ہے ۔گذشتہ بلدیاتی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین اپنا کھاتا کھولنے میں ضرور کامیاب رہی ہے ۔لیکن ابھی ایم آئی ایم کو یو پی میں ایک سیاسی پارٹی کے طور پر خود کو ثابت کرنے کیلئے کافی جد جہد کرنی پڑے گی ۔فی الحال اس وقت پوری ریاست میں مسلم سیاست میں ایک بزر دست خلا محسوس کیا جا رہا ہے ۔

Loading...

مشتاق عامر کی رپورٹ

Loading...