اب مظفر نگر میں دادری دہرانے کی کوشش ، گئوکشی کے نام پر ہجوم نے اقلیتی فرقہ کے ایک گھر کوگھیرا

اطلاعات کے مطابق کنڈگی میں سینکڑوں گاوں والوں نے ذیشان نامی ایک شخص کے گھر پر دھاوا بول دیا ۔ بھیڑ کا الزام تھا کہ ذیشان کے گھر میں گئو کشی کی گئی ہے ۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کسی بھی بڑے سانحہ کوٹال دیا۔

Aug 02, 2016 10:06 AM IST | Updated on: Aug 02, 2016 10:06 AM IST
اب مظفر نگر میں دادری دہرانے کی کوشش ، گئوکشی کے نام پر ہجوم نے اقلیتی فرقہ کے ایک گھر کوگھیرا

مظفرنگر : اتردیش کے ضلع مظفرنگر میں ایک بار پھر دادری سانحہ کو دہرانے کی کوشش کی گئی ۔ ہفتہ کو كھتولی تھانہ حلقہ کے گاؤں كنڈلی میں سینکڑوں گاؤں والوں نے گاؤں کے ہی رہنے والے ایک اقلیتی فرقہ کے گھر پر جم کر توڑ پھوڑ کی ۔ گاوں والوں کو ان پر گئو كشی کا الزام ہے۔ تاہم بروقت پولیس جائے واقعہ پر پہنچ گئی ، جس کی وجہ سے بڑے سانحہ ٹل گیا ۔  اس سلسلہ میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔  حالات میں کشیدگی کے پیش نظر گاؤں میں کثیر تعداد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ۔

اطلاعات کے مطابق کنڈگی میں سینکڑوں گاوں والوں نے ذیشان نامی ایک شخص کے گھر پر دھاوا بول دیا ۔ بھیڑ کا الزام تھا کہ ذیشان کے گھر میں گئو کشی کی گئی ہے ۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کسی بھی بڑے سانحہ کوٹال دیا۔  اتوار دیر رات پولیس نے ذیشان اور اس کے ایک چچا زاد بھائی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ۔

Loading...

پولیس کے مطابق معاملے کی حساسیت کے پیش نظر یہ کارروائی کی گئی ہے ۔ فی الحال گاؤں پوری طرح ماحول پر امن ہے ۔  وہیں بی جے پی ممبر اسمبلی کپل دیو اگروال نے پورے معاملے پر پولیس انتظامیہ اور ریاستی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے گئو کشی کرنے والوں پر این ایس اے کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Loading...