ہائی کورٹ سے مرکز کو بڑی راحت ، اتراکھنڈ اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر روک

دہرادون: اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے مرکزی حکومت کو بڑی راحت دیتے ہوئے 31 مارچ کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے والے ہونے والی ووٹنگ پر فی الحال روک لگا دی ہے۔ کورٹ نے اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت اور کانگریس سے 4 اپریل تک حلف نامہ داخل کرنے کیلئے کہا ہے۔ کورٹ میں اس معاملہ پراب اگلی سماعت 6 اپریل کو ہوگی۔

Mar 30, 2016 05:22 PM IST | Updated on: Mar 30, 2016 07:58 PM IST
ہائی کورٹ سے مرکز کو بڑی راحت ، اتراکھنڈ اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر روک

دہرادون: اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے مرکزی حکومت کو بڑی راحت دیتے ہوئے 31 مارچ کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے والے ہونے والی ووٹنگ پر فی الحال روک لگا دی ہے۔ کورٹ نے اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت اور کانگریس سے 4 اپریل تک حلف نامہ داخل کرنے کیلئے کہا ہے۔ کورٹ میں اس معاملہ پراب اگلی سماعت 6 اپریل کو ہوگی۔

اس سے قبل ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے پھٹکار لگائی ہے اور کہا ہے کہ ایوان میں ہی اکثریت طے ہونا چاہئے۔ نینی تال ہائی کورٹ نے کہا کہ ایوان میں اکثریت طے ہونا ایک اچھا اور صحیح طریقہ ہے اور گورنر نے بھی ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا تھا ۔ اسی کے ساتھ ہی عدالت نے مرکز سے پوچھا کہ آپ کس طرح کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

کورٹ نے 31 مارچ کو اکثریت ثابت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے خلاف مرکز نے یہ پٹیشن دائر کی تھی۔ مرکز کی طرف سے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے دلیل دی کہ جب ریاست میں صدر راج نافذ ہے اور اسمبلی معطل ہے تو اکثریت ثابت کرنے کا حکم کس طرح لاگو کیا جا سکتا ہے۔ وہیں کانگریس 9 باغیوں کو ووٹ کا حق دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپنا موقف رکھ رہی ہے۔

نینی تال ہائی کورٹ کی مرکزی حکومت کو پھٹکار، پوچھا، کیا پیغام دینا چاہتے ہیں

Loading...

اس سے پہلے نینی تال ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں ہریش راوت کو 31 مارچ تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا تھا، ساتھ ہی کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کو بھی ووٹنگ کا حق دیا تھا۔

منگل کو ہائی کورٹ کے حکم نے کانگریس کو تھوڑی راحت ضرور دی لیکن اس فیصلے نے اس کی مشکل بھی بڑھا دی۔ مرکزی حکومت کو بھی اس فیصلہ سے سخت دھچکا پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ہی عدالت سے رجوع کیا ہے۔

نینی تال ہائی کورٹ نے اپنے حکمنامہ میں ہریش راوت کو 31 مارچ تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا ہے۔ ہریش راوت کے لیے یہ ایک اچھی خبر تھی لیکن عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کو بھی ووٹنگ کا حق ہو گا، لیکن ان کے ووٹوں کو الگ رکھا جائے گا جس کے بعد سے ہریش راوت کی مشکل بڑھ گئی۔

کانگریس کی طرف سے کیس کی پیروی سنگھوی اور کانگریس لیڈر کپل سبل کر رہے ہیں، دونوں وکیل بھی ہیں۔ مرکزی کابینہ نے اتوار کو اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی تھی۔ صدر نے آئین کے آرٹیکل 356 کے تحت اس کے اعلان پر دستخط کئے تھے۔ اس کے بعد اتراکھنڈ اسمبلی معطل کر دی گئی۔ یہ پورا واقعہ محض ایک دن پہلے کا ہے، جب کانگریس کی زیرقیادت ریاستی حکومت کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنا تھی۔

کانگریس کے رہنماؤں اور راوت نے صدر راج نافذ کرنے کے مرکز کے اس فیصلے کو جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب گورنر نے وزیر اعلی ہریش راوت کو 28 مارچ کو اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا تھا، تب مرکزی حکومت نے 24 گھنٹے پہلے منتخب حکومت کو برخاست کرنے کی جلد بازی کیوں کی۔

Loading...