آج حکومت کے عزم اور 125 کروڑ ہم وطنوں کی محنت کے دم پر ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی معیشت بن گیا ہے

میری حکومت آنے کے بعد کچی پکی پرچی کا کھیل بند ہوگیا ہے ۔ جی ایس ٹی کے ذریعہ ٹیکس سیدھے حکومت تک پہنچ رہا ہے ۔ لوگوں کا کالا کاروبار بند ہوگیا ہے ، اس لئے تو ایسے لوگ پانی پی پی کر مجھے کوستے ہیں ۔

Feb 25, 2019 11:33 PM IST | Updated on: Feb 25, 2019 11:35 PM IST
آج حکومت کے عزم اور 125 کروڑ ہم وطنوں کی محنت کے دم پر ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی معیشت بن گیا ہے

میری حکومت آنے کے بعد کچی پکی پرچی کا کھیل بند ہوگیا ہے ۔ جی ایس ٹی کے ذریعہ ٹیکس سیدھے حکومت تک پہنچ رہا ہے ۔ لوگوں کا کالا کاروبار بند ہوگیا ہے ، اس لئے تو ایسے لوگ پانی پی پی کر مجھے کوستے ہیں ۔

وزیر اعظم پیر کو نیوز 18 رائزنگ انڈیا پروگرام میں پہنچے۔ پی ایم مودی نے پروگران میں اپنی حکومت کے ذڑیعے پانچ سالوں میں کئے گئے کام کاج کا بیورہ دیا۔ اس دوران انہوں نے اپوزیشن کے اس الزام کا بھی جواب دیا کہ مودی حکومت میں روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں۔ پی ایم مودی نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں کس طرح روزگار کے مواقع بڑھے ہیں۔

 ہندوستان کی گلوبل اسٹینڈنگ کی بات کریں تو ہم پڑھتے آئے تھے کہ اکیسویں صدی ہندوستان کی صدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ہندوستان کو 2013 میں دنیا کے فریزائل پانچ ممالک میں پہنچادیا گیا ۔ آج حکومت کے عزم اور 125 کروڑ ہم وطنوں کی محنت کے دم پر ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی معیشت بن گئی ہے ۔

Loading...

وزیر اعظم مودی نے جی ڈی پی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب اٹل جی نے کانگریس کے ہاتھوں میں حکومت سونپی تھی ، تو اس وقت جی ڈی پی 8 فیصد تھی ۔ سال 2014 میں یہ پانچ فیصد تک پہنچ گئی ، مگر ہم نے اس کو دوبارہ 8 فیصد تک پہنچادیا ہے ۔ انہوں نے ترقی کی شرح کو کم کردیا اور ہم نے اس کو دوبارہ بڑھادیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہی حالت انکم ٹیکس کو لے کر تھی ۔ مڈل کلاس انکم ٹیکس میں چھوٹ کیلئے مسلسل آواز اٹھاتا تھا ، لیکن راحت کے نام پر کچھ نہیں ملتا تھا ۔ ہماری حکومت نے پانچ لاکھ تک کی قابل ٹیکس آمدنی کو ہی ٹیکس کے دائرے سے باہر کردیا۔

ہماری حکومت کے دوران تقریبا چھ لاکھ کروڑ روپے مرکزی حکومت نے براہ راست فائدہ حاصل کرنے والوں کے اکاونٹ میں بھیجے ہیں اور مجھے یہ کہتے ہوئے فخر ہے کہ پہلے کی طرح 100 میں صرف 15 پیسے نہیں بلکہ پورے پیسے لوگوں کو مل رہے ہیں۔

جن دھن اکاونٹ ، آدھار اور موبائل کو جوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک کے بعد ایک کرکے کاغذوں میں دبے ہوئے فرضی نام سامنے آنے لگے ۔ آپ سوچئے ، اگر آپ کے گروپ میں 50 لوگ ایسے ہو جائیں جن کی ہرمہینے تنخواہ جارہی ہو ، لیکن وہ حقیقت میں ہو ہی نہیں ، تو کیا ہوگا ۔

میری حکومت آنے کے بعد کچی پکی پرچی کا کھیل بند ہوگیا ہے ۔ جی ایس ٹی کے ذریعہ ٹیکس سیدھے حکومت تک پہنچ رہا ہے ۔ لوگوں کا کالا کاروبار بند ہوگیا ہے ، اس لئے تو ایسے لوگ پانی پی پی کر مجھے کوستے ہیں ۔

Loading...