پاکستان کا ڈھلمل رویہ ، اب کہا : این آئی اے ٹیم کے دورے سے متعلق ہندوستان کی درخواست پر کرسکتا ہے غور

نئی دہلی : پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے خارجی امور کے مشیر سرتاج عزیز نے آج اشارہ دیا کہ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی مزید تحقیقات کے لئے ان کا ملک این آئی اے کی ٹیم کے دورے سے متعلق ہندوستان کی اپیل پر غور کر سکتا ہے ۔

Apr 19, 2016 12:16 AM IST | Updated on: Apr 19, 2016 12:16 AM IST
پاکستان کا ڈھلمل رویہ ، اب کہا : این آئی اے ٹیم کے دورے سے متعلق ہندوستان کی درخواست پر کرسکتا ہے غور

نئی دہلی : پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے خارجی امور کے مشیر سرتاج عزیز نے آج اشارہ دیا کہ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی مزید تحقیقات کے لئے ان کا ملک این آئی اے کی ٹیم کے دورے سے متعلق ہندوستان کی اپیل پر غور کر سکتا ہے ۔ خیال رہے کہ  ایک دن پہلے ہی سینئر پاکستانی ہائی کمیشنر نے اس سے انکار کیا تھا۔

عزیز نے کہا کہ ہندوستان میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا تبصرہ کہ دو طرفہ امن عمل معطل ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مذاکرات کا عمل منسوخ ہو گیا ہے یا پھر ہار مان لی گئی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہند پاک مذاکرات جلد بحال ہوں گے ، وہیں داخلی امور کے وزیر مملکت کرن رجیجو نے بھی امید ظاہر کی کہ پاکستان پٹھان کوٹ حملہ کی تحقیقات کے لئے این آئی اے کی ٹیم کو پاکستان جانے دے گا۔

Loading...

پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی جانچ کے سلسلے میں ہندوستان کی قومی تحقیقاتی ایجنسی کی ٹیم کو پاکستان کے دورہ کی اجازت سے متعلق سوال پر عزیز نے سی این این نیوز 18 کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایک بار جب وہاں تک پہنچ جائیں گے، تب ہندوستان اپیل کرتا ہے ، تو ہم غور کریں گے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ باسط کا یہ تبصرہ کہ تعاون کا مطلب باہمی تبادلہ نہیں ہے ، اس کی ضرورت سے زیادہ تشریح کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ باسط نے این آئی اے کے دورہ پاکستان کے آپشن کو خارج نہیں کیا تھا ۔

عزیز نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ انہوں نے اس لفظ کا استعمال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تبادلہ سے زیادہ اہم تعاون ہے اور انہوں نے اس آپشن کو خارج نہیں کیا تھا اور انہوں نے کہا کہ آئیے تعاون کریں اور اس کے بعد چیزیں کام کریں گی ۔ اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ کسی کے بیان کی ضرورت سے زیادہ تشریح کی جانی چاہئے ۔  باسط نے صرف اتنا کہا کہ تعاون زیادہ اہم ہے جو کہ حقیقت ہے ۔

Loading...