آئندہ لوک سبھا انتخابات: نتیش اور ادھو کے لئے چیلنج، بی جے پی کا سامنا کریں یا خودسپردگی

شیوسینا نے تو جیسے بی جے پی کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے اور جے ڈی یو بھی دوبارہ بی جے پی سے جڑنے کے بعد بہت زیادہ اطمینان محسوس نہیں کر رہی ہے۔

Jun 02, 2018 10:37 AM IST | Updated on: Jun 02, 2018 10:38 AM IST
آئندہ لوک سبھا انتخابات: نتیش اور ادھو کے لئے چیلنج، بی جے پی کا سامنا کریں یا خودسپردگی

کانگریس اور این سی پی دونوں نسبتا شیوسینا کے ساتھ مطمئن ہیں کیونکہ شیوسینا کا ہندوتو بی جے پی کے ایجنڈے کو روکنے کے لئے کافی اہم ہے۔

نئی دہلی۔ شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے اور جے ڈی یو چیف نتیش کمار دونوں اس وقت این ڈی اے سے غیر مطمئن نظر آ رہے ہیں۔ جس طرح سے اس بار بی جے پی کا اثر ورسوخ بڑھا ہے، اس سے دونوں جماعتیں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں حصہ داری نبھا رہی ہے اور دوسری خود حکومت چلا رہی ہے بی جے پی کی حمایت سے۔ لیکن دونوں اس بات کو لے کر کشمکش میں ہیں کہ اگلے چناو تک کیا صورت حال ہو گی۔ کیا وہ بی جے پی کے ساتھ رہ پائیں گے یا نہیں۔

Loading...

شیوسینا نے تو جیسے بی جے پی کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے اور جے ڈی یو بھی دوبارہ بی جے پی سے جڑنے کے بعد بہت زیادہ اطمینان محسوس نہیں کر رہی ہے۔

لیکن اب حالات کافی بدل چکے ہیں۔ شیوسینا جو کہ بالا صاحب ٹھاکرے کے وقت میں مہاراشٹر میں کبھی بڑے بھائی کا کردار ادا کرتی تھی، وہی اب بی جے پی کی جونیئر یعنی کہ معاون کے طور پر کام کر رہی ہے۔ 2014 میں جب بی جے پی نے شیوسینا کے ساتھ اتحاد کو توڑ دیا تھا، تب شیوسینا کو مجبورا  اکیلے اسمبلی الیکشن لڑنا پڑا تھا۔

دوسری طرف، 2015 کے اسمبلی انتخابات میں نتیش کمار نے بی جے پی کو شکست دینے کے لئے لالو پرساد یادو کے ساتھ ہاتھ ملا لیا تھا۔ لیکن مسلسل اختلافات کے باوجود شیوسینا اور جے ڈی یو دونوں پارٹیوں کے پاس اب ایک ہی راستہ ہے کہ وہ یا تو بی جے پی کے شاگرد کی طرح کام کریں اور یا تو بی جے پی کا مقابلہ کریں۔

لیکن جس طرح سے پنجاب اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی اور کانگریس دونوں عام آدمی پارٹی کو اپنا دشمن مان رہی تھیں اسی طرح سے یہاں مہاراشٹر میں بھی این سی پی، کانگریس، ایم این ایس اور شیو سینا بی جے پی سے خطرہ محسوس کر رہی ہیں اس لئے یہ پارٹیاں ایک ساتھ ہاتھ ملا سکتی ہیں۔

کانگریس اور این سی پی دونوں نسبتا شیوسینا کے ساتھ مطمئن ہیں کیونکہ شیوسینا کا ہندوتو بی جے پی کے ایجنڈے کو روکنے کے لئے کافی اہم ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایم این ایس چیف راج ٹھاکرے پہلے ہی 'مودی مکت بھارت' کا نعرہ دے چکے ہیں۔

تو آخر اینٹی بی جے پی فرنٹ سے مہاراشٹر میں کس کو سب سے زیادہ فائدہ ہو گا۔ بی جے پی بھی مہاراشٹر سے آنے والے اس خطرہ کو بھانپ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شیوسینا کی ترجیح ہو گی کہ وہ بی جے پی کو کسی بھی طریقے سے روک سکے۔

پالگھر لوک سبھا ضمنی انتخاب کے دوران ادھو ٹھاکرے کا یہ کہنا کہ تمام جماعتوں کو ایک ساتھ ہو جانا چاہئے، ظاہر کرتا ہے کہ شیوسینا بی جے پی کو روکنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

لیکن نتیش کے پاس متبادل کم ہیں کیونکہ انہوں نے کانگریس کے ساتھ اپنا رشتہ ختم کر لیا ہے اور جس طرح سے انہوں نے لالو سے اپنا راستہ الگ کر لیا ہے، اس کے بعد ان سے جڑنا تھوڑا مشکل ہے۔ نتیش کے ساتھ ایک اور مسئلہ ہے کہ وہ کبھی اپنے دم پر حکومت نہیں بنا سکے۔ بی جے پی بھی یہ محسوس کررہی ہے کہ اگر اسے بہار میں اپنی پہنچ بڑھانی ہے تو اسے جے ڈی یو کو کمزور کرنا ہو گا یا اپنے بعد اسے دوسرے مقام پر لانا ہو گا۔

ویکنٹیش کیسری کی رپورٹ

Loading...