نصاب میں زبان کے مضمون کے طور پراردو شامل، لیکن پڑھانے کے لئے نہیں ہے کوئی ٹیچر

میرٹھ ضلع میں بھی ایسے کئی سرکاری اسکول ہیں جہاں ایک مضمون کے طور پر اردو نصاب کا حصہ تو ہے لیکن اردو پڑھانے کے لئے کوئی ٹیچر موجود نہیں ہے ۔

Sep 03, 2016 06:58 PM IST | Updated on: Sep 03, 2016 06:58 PM IST
نصاب میں زبان کے مضمون کے طور پراردو شامل، لیکن پڑھانے کے لئے نہیں ہے کوئی ٹیچر

میرٹھ ۔ کہنے کو تو صوبہ اتر پردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن زبان کو فروغ دینے میں حکومت کی کارکردگی ہر سطح پر غیر سنجیدہ اور ناکافی نظر آتی ہے ۔ حکومت کی یہی لاپرواہی سرکاری پرائمری ، جونیئر اور ہائی اسکولوں میں اردو کی تعلیم اور اردو ٹیچرس کی تقرری کو بھی لیکر نظر آتی ہے ۔ میرٹھ ضلع میں بھی ایسے کئی سرکاری اسکول ہیں جہاں ایک مضمون کے طور پر اردو نصاب کا حصہ تو ہے لیکن اردو پڑھانے کے لئے کوئی ٹیچر موجود نہیں ہے ۔ مجبوری میں طلبا سنسکرت پڑھ رہے ہیں۔

 مثال کے طور پرمیرٹھ کے ففوندا قصبے کا  پورو مادھیامک سرکاری اسکول ہے جہاں قصبے کے ہی غریب طبقے کی تقریباً  سو بچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور ان میں 90 فیصد تعداد مسلم بچیوں کی ہے ۔ نصاب میں زبان کے ایک مضمون کے طور پر ان لڑکیوں کو اردو سبجیکٹ لینے کی آزادی حاصل ہے تاہم اردو زبان کی تعلیم دینے والی کسی ٹیچر کے نہ ہونے سے یہ لڑکیاں اردو کی تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں ۔  اس اسکول کی ہیڈ ٹیچر خود مانتی ہیں کہ اسکول میں اسٹاف کی کمی ہے۔  اس کا سیدھا اثر لڑکیوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے ۔ وہیں ذمہ دار افسران خود مانتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں میں اردو ٹیچرس کی کمی ہے۔

الیکشن سے قبل اردو ٹیچرس کی تقرری اور سرکاری اسکولوں میں اردو زبان کے فروغ کو لیکر سماجوادی پارٹی نے اقلیتی طبقے سے کئی وعدے کئے تھے لیکن چار سال کا وقت گزر جانے کے بعد بھی بنیادی سطح پر ہی حالات بہتر نظر نہیں آتے ہیں۔

Loading...

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com