علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرنا نہیں ہوگا آسان: ماہرین قانون

الٰہ آباد۔ مرکزی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کےا قلیتی درجے سے انکار کئے جانے سے ملک کے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

Jan 18, 2016 05:41 PM IST | Updated on: Jan 18, 2016 05:43 PM IST
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرنا نہیں ہوگا آسان: ماہرین قانون

الٰہ آباد۔ مرکزی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کےا قلیتی درجے سے انکار کئے جانے سے ملک کے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی کی اقلیتی شناخت کے بارے میں قانونی  حلقوں میں  ایک بحث چھڑ گئی ۔ ملک کے ممتاز ماہرین قانون کا خیال ہے کہ علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی رو ز اول سے ہی ایک مسلم ادارہ رہی ہے ، ایسے میں  اے ایم یو کا اقلیتی درجہ ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا ۔لیکن اس وقت  بات صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار تک ہی محدود نہیں رہی  ہے۔ گذشتہ دنوں مرکزی حکومت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو بھی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا  بورڈ کے قانونی مشیر ایم اے قدیر کا خیال ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا معاملہ اے ایم یو کے معاملے سے قطعی  مختلف ہے ۔ سر سید کی خوابوں کی تعبیر اور ملک کے مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کا  اہم مرکز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اقلیتی شناخت ایک بار پھر خطرے میں دکھائی دے رہی ہے ۔مرکزی حکومت نے  سپریم کورٹ میں اپنی اس پٹیشن کو واپس لینے کا کا فیصلہ کیا ہے جس میں سابقہ یو پی اے حکومت نے اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ تسلیم کیا تھا ۔مرکزی حکومت کے اس  بدلے ہوئے رویے سے قانون دانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔معروف قانون داں اور الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل روی کرن جین کا کہنا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی روز اول سے ہی ایک مسلم ادارہ ہے لہٰذا اس کا اقلیتی کر دار کسی عدالتی فیصلے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ  افراد اس معاملے کو ایک سیاسی مسئلہ بھی مان رہے ہیں ۔اے ایم یو اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری بختیار یوسف اس پورے معاملے کو مرکزی حکومت کی نیت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں ۔بختیار یوسف کا کہنا ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت اے ایم یو کے اقلیتی کردار کو ایک سیاسی ایشو بنانا چاہتی ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ اے ایم یو کے اقلیتی کردار کو نشانہ بنا یا گیا ہے ۔اس سے پہلے سن ۱۹۶۷ میں عزیز پاشا کیس میں مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر قانونی بحث ہو چکی ہے ۔لیکن ۱۹۸۱ میں اس وقت کی کانگریس حکومت نے مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو تسلیم کر لیا تھا ۔آج ایک بار پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔لیکن اس بار کا معاملہ لوگ زیادہ سنگین مان رہے ہیں ۔

Loading...

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com