حکم سنگھ کے نقش قدم پر وی ایچ پی ، دیوبند سے 40 ہندو خاندانوں کی نقل مکانی کا کیا دعوی

وشو ہندو پریشد نے دعوی کیا ہے کہ دیوبند سے 40 ہندو کنبوں نے نقل مکانی کی ۔ ساتھ ہی ساتھ وی ایچ پی نے ایک فہرست بھی جاری کر کے اس معاملہ مزید ہوا دینے کی کوشش کی ہے

Jun 17, 2016 03:09 PM IST | Updated on: Jun 17, 2016 03:09 PM IST
حکم سنگھ کے نقش قدم پر وی ایچ پی ، دیوبند سے 40 ہندو خاندانوں کی نقل مکانی کا کیا دعوی

دیوبند : اتر پردیش کے کیرانہ سے ہندوں کی مبینہ نقل مکانی کا معاملہ ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ اب بی جے پی لیڈر حکم سنگھ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی اشتعال انگیزیوں کے مشہور وشو ہندو پریشد نے دعوی کیا ہے کہ دیوبند سے 40 ہندو کنبوں نے نقل مکانی کی ۔ ساتھ ہی ساتھ وی ایچ پی نے ایک فہرست بھی جاری کر کے اس معاملہ مزید ہوا دینے کی کوشش کی  ہے ۔

وی ایچ پی لیڈر وکاس تیاگی نے گوجر بھون میں پریس کانفرنس کر کے دیوبند سے 40 ہندو کنبون کی نقل مکانی کا دعوی کیا اور فہرست جاری کی۔ ساتھ ہی ساتھ وی ایچ پی لیڈر نے 6 ایسے مذہبی مقامات کا بھی نام فہرست میں شامل کیا ، جن پر ان کے مطابق قبضہ کر لیا گیا ہے۔ تیاگی نے چار ایسے محلوں کی بھی فہرست جاری کی ، جس کے بارے میں اس نے دعوی کیا کہ اب یہاں ایک بھی ہندو کنبہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بی جے پی لیڈر حکم سنگھ نے کہا تھا کہ کیرانہ سے سینکڑوں ہندو کنبے نقل مکانی کرچکے ہیں ۔ تاہم اس معاملہ میں سہارنپور رینج کے ڈی آئی جی اے کے راگھو کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ خبروں کے مطابق راگھو نے ڈی جی پی ہیڈکوارٹر کو سونپی اپنی رپورٹ میں بی جے پی پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ راگھو نے کہا ہے کہ اگلے سال یوپی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں فائدہ کے لئے بی جے پی ہندوؤں میں مبینہ عدم تحفظ کے احساس کو مسئلہ بنا کر ہندو ووٹوں کا پولرائزیشن کرنا چاہتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکم سنگھ نے بھی فرقہ وارانہ پولرائزیشن کر کے ہی کامیابی حاصل کی تھی ۔ اب وہ اپنی بیٹی کو بھی اسی راستے انتخابی میدان میں اتارنا چاہتا ہے۔

Loading...

Loading...