تاج محل ، راشٹرپتی بھون اور پارلیمنٹ غلامی کی نشانی ، منہدم کردیا جائے

رامپور : اترپردیش میں شہری ترقی کے وزیر محمد اعظم خان نے اب تاج محل، راشٹرپتی بھون اور پارلیمنٹ ہاؤس کو غلامی کی نشانی قرار دیا ہے۔

Feb 20, 2016 07:13 PM IST | Updated on: Feb 20, 2016 07:13 PM IST
تاج محل ، راشٹرپتی بھون اور پارلیمنٹ غلامی کی نشانی ، منہدم کردیا جائے

رامپور : اترپردیش میں شہری ترقی کے وزیر محمد اعظم خان نے اب تاج محل، راشٹرپتی بھون اور پارلیمنٹ ہاؤس کو غلامی کی نشانی قرار دیا ہے۔

یہاں رضا ڈگری کالج میں آج منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر خان نے کہا کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں کی نشانی تاج محل کے ہم سخت مخالف ہیں۔ حالانکہ تاج محل آج دنیا کا عجوبہ ہے ، لیکن جب اس کی تعمیر ہوئی تھی ، اس وقت لوگوں کے پاس زہر کھانے کیلئے بھی پیسہ نہیں تھا۔ یعنی ایک ایسا غریب ملک جس کے باشندے روٹی، کپڑا اور مکان کے محتاج تھے، اس ملک کے پاس بہت بڑے بڑے قلعے تھے۔

وزیر نے کہاکہ تاج محل کی تعمیر میں لگنےوالا پیسہ سرکاری خزانے کا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آج خزانے کے پیسے کا استعمال تخت پر بیٹھے لوگ اپنے ذاتی مفاد کیلئے نہیں کرسکتے۔ہندستان میں اگر سب سے بڑی غلامی کی نشانی کوئی ہے تو وہ تاج محل ہے۔ دوسرے نمبر پر انگریز حکمرانوں کی جانب سے تعمیرکردہ راشٹرپتی بھون اور پارلیمنٹ ہیں۔

اعظم خان نے لوگوں سے اپیل کی کہ جس دن آپ تاج محل گرانے چلیں گے، میں سب سے آگے رہوں گا۔ انہوں نےکہاکہ وہ آج بھی تاج محل کو گرا دینے کے حق میں ہیں ، کیوں کہ جب تاج محل کی تعمیر ہوئی تھی ، تب وہ صرف ایک حکمراں کی محبت کیلئے بنائی گئی تھی اور یہ انصاف نہیں تھا۔ حالانکہ اب ایسا نہیں ہوگا کیوں کہ یہ تاج محل ہمارے لئے عزت اور آمدنی کا سبب ہے۔

Loading...

جے این یو تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے خان نے کہاکہ یہ ممکن ہے کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے بچے اور بچیاں بالکل باغی ہوں۔ جے این یو کی تہذیب بالکل جدا ہے ، لیکن یہ بچے ان مذہبی لوگوں سے اچھے ہیں ، جو لوگوں کو ٹھگنے کا کام کرتے ہیں اور انہیں دھوکہ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جے این یو کیمپس میں اگر کوئی نعرہ بازی ہوئی بھی تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہائی کورٹ کے وکیل بچوں پر حملہ کردیں۔ لکھنؤ کی سڑکوں پر گزشتہ دنوں ایک وکیل نے جو کہرام مچایا تھا، وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔

ہاردک پٹیل کو گجرات کا نوجوان قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس پر وہ مقدمہ ہے جو ایمرجنسی کے زمانے میں جارج فرنانڈیز پر تھا۔ اگر سیاسی انقلاب نہ آیا ہوتا تو 1975 میں جارج فرنانڈیز کو پھانسی دے دی گئی ہوتی۔ ہاردک پٹیل کو تختہ دار پر لٹکانے کا پورا انتظام ہے۔

فروغ انسانی وسائل کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی پر نشانہ لگاتے ہوئے کابینہ وزیر نے کہاکہ انہوں نے اپنی حکومت کے ایک ناخواندہ وزیر کو ہٹانے کی پہل کی تھی اور بالآخر اس وزیر کو اپنے عہدہ سے ہٹنا پڑا تھا، ٹھیک اسی طرح مرکزی حکومت کی ایک وزیر کی تعلیمی لیاقت کے بارے میں وہ عدالت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

Loading...