یو پی میں 157 کالج پرنسپل کی تقرری رد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے افراتفری کا ماحول

سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد عہدے سے دستبردار پرنسپل جہاں صدمے میں ہیں ، وہیں داخلوں کے اس دور میں انتظامات کو لے کر کالج کی مینجمنٹ کمیٹیاں پس وپیش میں ہیں کہ اب کیا کیا جائے

Jul 22, 2016 07:54 PM IST | Updated on: Jul 22, 2016 07:54 PM IST
یو پی میں 157 کالج پرنسپل کی تقرری رد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے افراتفری کا ماحول

میرٹھ : میرٹھ کی چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی سے وابستہ مغربی یو پی کے 15 کالجوں کے پرنسپلوں کو فوری طور پر اپنے عہدہ سے دستبردار ہونا پڑا ہے۔ ان کے عہدے پر تقرری سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کالج انتظامیہ میں پس و پیش کا عالم ہے ۔ یو پی میں 157 کالج پرنسپل کی تقرری رد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے میرٹھ کے بھی پانچ کالج متاثر ہوئے ہیں ۔

سن 2009 میں یوپی حکومت کی جانب سے ریاست کے مختلف کالجوں میں پرنسپلوں کی تقرری عمل میں آئی تھی ۔ تاہم اس عہدے کے لئے اصول و ضوابط پورا نہ کرنے کا معاملہ پہلے ہائی کورٹ گیا اور پھر سپریم کورٹ کے زیر سماعت رہا۔ گزشتہ روز اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اس عہدے پر تقرر 157 پرنسپلوں کو اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا ہے۔

میرٹھ میں بھی میرٹھ کالج، اسمٰعیل گرلز ڈگری کالج ، آر جی کالج ، ڈی این کالج اور این اے ایس کالج کے پرنسپلوں کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑگیا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد عہدے سے دستبردار پرنسپل جہاں صدمے میں ہیں ، وہیں داخلوں کے اس دور میں انتظامات کو لے کر کالج کی مینجمنٹ کمیٹیاں پس وپیش میں ہیں کہ اب کیا کیا جائے۔

Loading...

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com