ہمیں ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی پسماندگی دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے: پروفیسرصمدانی

جونپور۔ مدرسہ صمدانیہ اسلامیہ ہائی اسکول ،شدنی پور کی جانب سے سینیر پولیس آفیسر ندیم احمد صمدانی (علیگ) ،کمانڈنٹ کا استقبا ل کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے حصہ لیا ۔

Jan 18, 2016 05:58 PM IST | Updated on: Jan 18, 2016 05:58 PM IST
ہمیں ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی پسماندگی دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے: پروفیسرصمدانی

جونپور۔ مدرسہ صمدانیہ اسلامیہ ہائی اسکول ،شدنی پور کی جانب سے سینیر پولیس آفیسر ندیم احمد صمدانی (علیگ) ،کمانڈنٹ کا استقبا ل کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے حصہ لیا ۔ ادارے کے منیجر اور روحِ رواں محمد ایوب نے مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ صمدانی صاحب کے آبا و اجداد کا تعلق اسی گائوں سے تھا اور اس گائوں کی مسجد بھی انہیں کے آباو اجداد کی دین ہے ۔ کمانڈنٹ صمدانی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے نہ صرف اپنے شہر کا نام روشن کیا ہے بلکہ انکے اوپر پورے گائوں کو فخر ہے اور ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی غرض سے گاہے بگاہے شدنی پور آتے رہتے ہیں ۔

                مہمان خصوصی ندیم صمدانی نے کہا کہ اساتذہ طلبہ کے لئے ایک ماڈل ہوتے ہیں اور اسی لئے ان کا مقام والدین کے بعد سب سے اہم ہوتا ہے۔ دینی نقطہ نگاہ سے اساتذہ کا مرتبہ بہت زیادہ ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اساتذہ کی خدمت سے علم  بڑھتا ہے ۔ جناب ندیم صمدانی نے اساتذہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس پیشہ کو صرف کمائی کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ کمائی کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کا بھی جذبہ ہونا چاہیے، انہیں طلبہ کے ساتھ اس طر ح پیش آنا چاہیے جیسے وہ ان کے اپنے بچے ہوں اور اپنی ساری صلاحیت ان کو سنوارنے میں لگا دینی چاہیے۔

                استقبالیہ جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے یونائیٹیڈ مسلم آرگنائزیشن (یو ایم او) کے صدراور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معروف استاذ پروفیسر شکیل صمدانی نے اسکول کی کامیابی پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک فرد واحد نے انتہائی پسماندہ اور دوردراز علاقہ میں تعلیم کی شمع روشن کی ہے یہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے اگر اسی طرح لوگ ملک کے طول و عرض میں تعلیم کی شمع روشن کرنے لگیں تو مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی بدحالی دور ہو سکتی ہے ۔ پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ ہم ایک آزاد جمہوری ملک میں رہتے ہیں اور ہمیں ترقی کے ہر طرح کے مواقع حاصل ہیں۔ ہمیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنی پسماندگی دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

پروفیسر صمدانی نے مسلم یونیورسٹی کے سلسلہ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جو حرکت کی ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی ساری توجہ عدالت عظمیٰ میں چلنے والے مقدمہ پر مرکوز کرنی چاہیے اور اللہ سے دعا بھی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو بحال کرے اور ہمیں سپریم کورٹ میں زبردست کامیابی ملے ۔

Loading...

Loading...